1. دار الافتاء الاخلاص کراچی
  2. قرض،سود، جوا اور انشورنس

موبائل کمپنی کے اکاؤنٹ میں مخصوص رقم رکھنے کی شرط پر یومیہ ملنے والے انٹرنیٹ ایم بیز استعمال کرنے کا حکم

سوال

السلام علیکم، مفتی صاحب !مسئلہ یہ ہے کہ ٹیلی نار کی طرف سے روزانہ دن کے حساب سے ایم بیز ملتے ہیں، اس میں یہ ہوتا ہے کہ ایک پیسہ ہونا بھی ضروری ہے، اگر ایک پیسہ نہیں ہوگا تو آپ کو ایم بیزی نہیں ملتے، تو آیا اس طرح ایسا خرچ کرکے روزانہ ایم بیز لینا درست ہے یا یہ سود کے زمرے میں آئے گا؟ براہ کرم رہنمائی فرمادیں، اللہ آپ کو جزائے خیر نصیب فرمائے۔ آمین

جواب

واضح رہے کہ اگر کمپنی کی طرف سے اضافی انٹرنیٹ ایم بیز (MBs)، اضافی منٹس یا کوئی بھی دوسرا اضافی نفع، اس شرط پر دیا جاتا ہو کہ اکاؤنٹ میں مخصوص رقم رکھی جائے، تو یہ قرض کی بنیاد پر حاصل ہونے والا مشروط نفع ہے، جو کہ سود میں داخل ہے، لہذا ان اضافی ایم بیز (MBs) کو استعمال کرنا جائز نہیں ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

کما قال اللہ تعالیٰ:

"يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ۔ فَإِنْ لَمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ ۖ وَإِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوسُ أَمْوَالِكُمْ لَا تَظْلِمُونَ وَلَا تُظْلَمُونَ".

(سورۃ البقرة، الایة: 279,278)

وفی الاشباہ لابن نجیم:

"ﻛﻞ ﻗﺮﺽ ﺟﺮ ﻧﻔﻌﺎ ﺣﺮاﻡ".

(ج: 1، ص: 226، ط: دارالکتب العلمیہ، بیروت)

وفی الدر المختار مع رد المحتار:

"(ﻭﻋﻠﺘﻪ) ﺃﻱ ﻋﻠﺔ ﺗﺤﺮﻳﻢ اﻟﺰﻳﺎﺩﺓ (اﻟﻘﺪﺭ)اﻟﻤﻌﻬﻮﺩ ﺑﻜﻴﻞ ﺃﻭ ﻭﺯﻥ (ﻣﻊ اﻟﺠﻨﺲ ﻓﺈﻥ ﻭﺟﺪا ﺣﺮﻡ اﻟﻔﻀﻞ) ﺃﻱ اﻟﺰﻳﺎﺩﺓ (ﻭاﻟﻨﺴﺎء) ﺑﺎﻟﻤﺪ اﻟﺘﺄﺧﻴﺮ ﻓﻠﻢ ﻳﺠﺰ ﺑﻴﻊ ﻗﻔﻴﺰ ﺑﺮ ﺑﻘﻔﻴﺰ ﻣﻨﻪ ﻣﺘﺴﺎﻭﻳﺎ ﻭﺃﺣﺪﻫﻤﺎ ﻧﺴﺎء (ﻭﺇﻥ ﻋﺪﻣﺎ) ﺑﻜﺴﺮ اﻟﺪاﻝ ﻣﻦ ﺑﺎﺏ ﻋﻠﻢ اﺑﻦ ﻣﺎﻟﻚ (ﺣﻼ) ﻛﻬﺮﻭﻱ ﺑﻤﺮﻭﻳﻴﻦ ﻟﻌﺪﻡ اﻟﻌﻠﺔ ﻓﺒﻘﻲ ﻋﻠﻰ ﺃﺻﻞ اﻹﺑﺎﺣﺔ (ﻭﺇﻥ ﻭﺟﺪ ﺃﺣﺪﻫﻤﺎ) ﺃﻱ اﻟﻘﺪﺭ ﻭﺣﺪﻩ ﺃﻭ اﻟﺠﻨﺲ (ﺣﻞ اﻟﻔﻀﻞ ﻭﺣﺮﻡ اﻟﻨﺴﺎء) ﻭﻟﻮ ﻣﻊ اﻟﺘﺴﺎﻭﻱ".

(ج: 5، ص: 172، ط: دارالفکر، بیروت)

وفیہ ایضاً:

"قوله: كل قرض جر نفعاً حرام) أي: إذا كان مشروطاً''.

(ج: 5، ص: 166، ط: دارالفکر)

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی


ماخذ :دار الافتاء الاخلاص کراچی
فتوی نمبر :8117


فتوی پرنٹ