1. دار الافتاء الاخلاص کراچی
  2. احادیث کی تحقیق، تخریج و اسنادی حیثیت

اونٹ کا گوشت کھانے کے بعد وضو کرنے سے متعلق حدیث کی تحقیق اور تشریح

سوال

ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا: کیا میں بکری کا گوشت کھانے کے بعد وضو کیا کروں؟ آپ نے فرمایا: "اگر چاہو تو وضو کرو، اور اگر چاہو تو نہ کرو"، اس شخص نے پوچھا: کیا میں اونٹ کا گوشت کھانے کے بعد وضو کیا کروں؟ آپ نے فرمایا: "ہاں! اونٹ کا گوشت کھانے کے بعد وضو کیا کرو"۔ اس شخص نے پوچھا: کیا میں بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھ لیا کروں؟ آپ نے فرمایا: "جی ہاں!" اس نے پوچھا: کیا میں اونٹ بٹھانے کی جگہ نماز پڑھ لیا کروں؟ آپ نے فرمایا: "نہیں"۔ مفتی صاحب ! کیا مندرجہ بالا حدیث صحیح ہے؟ اگر صحیح ہے تو اس کی وضاحت بھی فرمادیں۔

جواب

سوال میں مذکور حدیث "صحیح" ہے، حدیث کی مشہور کتاب "صحیح مسلم" میں بیان کی گئی ہے، ذیل میں اس حدیث کو سند، متن، ترجمہ اور تشریح کے ساتھ بیان کیا جاتا ہے:

٣٦٠- حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ الْجَحْدَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ: أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَأَتَوَضَّأُ مِنْ لُحُومِ الْغَنَمِ؟ قَالَ: "إِنْ شِئْتَ فَتَوَضَّأْ، وَإِنْ شِئْتَ فَلَا تَوَضَّأْ"، قَالَ: أَتَوَضَّأُ مِنْ لُحُومِ الْإِبِلِ؟ قَالَ: "نَعَمْ، فَتَوَضَّأْ مِنْ لُحُومِ الْإِبِلِ"، قَالَ: أُصَلِّي فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ؟ قَالَ: "نَعَمْ"، قَالَ: أُصَلِّي فِي مَبَارِكِ الْإِبِلِ؟ قَالَ: "لَا".

(صحيح مسلم: ١/ ٢٧٥، رقم الحديث: (٣٦٠) كتاب الحيض/ بَاب الْوُضُوءِ مِنْ لُحُومِ الْإِبِلِ)

ترجمہ:

حضرت جابر بن سمرہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا: کیا میں بکری کا گوشت کھانے کے بعد وضو کیا کروں؟ آپ نے فرمایا: "اگر چاہو تو وضو کرو، اور اگر چاہو تو نہ کرو"، اس شخص نے پوچھا: کیا میں اونٹ کا گوشت کھانے کے بعد وضو کیا کروں؟ آپ نے فرمایا: "ہاں! اونٹ کا گوشت کھانے کے بعد وضو کیا کرو"۔ اس شخص نے پوچھا: کیا میں بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھ لیا کروں؟ آپ نے فرمایا: "جی ہاں!" اس نے پوچھا: کیا میں اونٹ بٹھانے کی جگہ نماز پڑھ لیا کروں؟ آپ نے فرمایا: "نہیں"۔

تشریح:

حضرت امام احمد رحمہ اللّٰہ کے نزدیک اونٹ کا گوشت کھانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے، مذکورہ بالا حدیث سے انہوں نے استدلال کیا ہے، جبکہ حضرات خلفاء راشدین، حضرت عبد اللہ بن مسعود اور حضرت ابن عباس رضوان اللہ علیہم اجمعین، دیگر بہت سے صحابہ کرام اور جمہور تابعین اور ائمہ ثلاثہ (امام ابوحنیفہؒ، امام مالکؒ اور امام شافعیؒ رحمہمُ اللہ) کے نزدیک اونٹ کا گوشت کھانے سے وضو نہیں ٹوٹتا ہے، ان حضرات کی دلیل وہ احادیث ہیں، جن میں آیا ہے کہ آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے سے وضو نہیں ٹوٹتا ہے، اس میں اونٹ کا گوشت بھی شامل ہے، نیز نبی اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا آخری عمر میں اسی پر عمل تھا کہ آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے کے بعد وضو نہیں فرماتے تھے۔

لہذا حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللّٰہ نے فتح الباری شرح صحیح البخاری جلد ١، ص ٣١١ میں فرمایا ہے: امام خطابی رحمہ اللّٰہ نے فرمایا ہے کہ جن احادیث میں آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے کے بعد وضو کا حکم آیا ہے، وہ استحباب پر محمول ہیں نہ کہ وجوب پر، لہذا اونٹ کا گوشت کھانے کے بعد وضو کرنا مستحب ہوگا، واجب نہیں ہوگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

لما فی بذل المجهود في حل سنن أبي داود (2 / 67):

"وأما القائلون بعدم النقض فاحتجوا بحديث جابر - رضي الله عنه - الذي أخرجه الأربعة أنه قال: "كان آخر الأمرين من رسول الله صلى الله عليه وسلم ترك الوضوء مما مست النار" أي تحقق الأمران: الوضوء والترك، وكان الترك آخر الأمرين، فارتفع الوضوء أي وجوبه.
ولهذا قال الترمذي: وكأن هذا الحديث ناسخ للحديث الأول حديث الوضوء مما مسّت النار، ولما كانت لحوم الإبل داخلة فيما مسّت النار، وكانت فردًا من أفراده، ونُسِخ وجوبُ الوضوء عنه بجميع أفراده، استلزم نسخ الوجوب عن هذا الفرد أيضًا.
فما قال النووي: لكن هذا الحديث عام، وحديث الوضوء من لحوم الإبل خاص، مندفع, لأنا لانسلم كونه منسوخًا بحيث إنه خاص، بل لأنه فرد من أفراد العام الذي نسخ، فإذا نسخ العام وهو وجوب الوضوء مما مست النار نسخ جميع أفرادها، ومن أفرادها أكل لحوم الإبِل التي مسته النار، ولو سُلِّمَ كونها خاصًّا، فالعام والخاص عندنا قطعيان متساويان، لا يقدم أحدهما على الآخر، فعلى هذا العام ينسخ الخاص أيضًا".

وفی معارف السنن:

'' وقال جمهور الفقهاء مالك و أبوحنيفة و الشافعي و غيرهم: لاينقض الوضوء بحال، و المراد بالوضوء غسل اليد و الفم عندهم، و ذلك ؛ لأن للحم الإبل دسماً و زهومةً و زفراً بخلاف لحم الغنم، و من أجل ذلك جاء ت الشريعة بالفرق بينهما''.
( باب الوضوء من لحم الابل، ج1، ص292، ط: سعید)

(کذا فی فتح الملہم، ج3، ص111، باب الوضو من لحوم الابل، مکتبہ دارالعلوم کراچی)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی


ماخذ :دار الافتاء الاخلاص کراچی
فتوی نمبر :8115


فتوی پرنٹ