1. دار الافتاء الاخلاص کراچی
  2. طلاق و خلع

"اب طلاق ہوگئی ہے" کہنے کا حکم

سوال

السلام عليكم، کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام اس مسئلے کہ بارے میں کہ میں نے اپنی بیٹی بتاریخ 17 دسمبر 2020 کو تقریباً بنام عبد القادر ولد غلام حیدر کو نکاح میں دی تھی، پس کسی وجہ سے وہ لوگ شادی کے ایک ماہ بعد میری بیٹی کو ہمارے گھر چھوڑ کر چلے گئے تھے اور اس کے بعد 7 سے 8 ماہ کے عرصے میں کبھی بھی ایک مرتبہ اس کے شوہر نے اپنی بیوی سے رابطہ نہیں کیا تھا اور اسی طرح ایک دن میری بیٹی نے خود اپنے شوہر بنام عبد القادر ولد غلام حیدر کو ایک کال کی تو میری بیٹی نے بتایا کہ میرے شوہر نے پہلی کال میں ہی یہ الفاظ کہے کہ اب طلاق ہوگئی ہے، کال مت کیا کرو، ایک مرتبہ طلاق کا لفظ نکالا تو میں نے کال کو کاٹ کر دوبارہ کال کرکے ریکارڈنگ پر لگائی تاکہ ہر بات ریکارڈ ہوسکے۔ پھر میری بیٹی نے کہا کہ میں نے شروع سے سوال کیا، تاکہ اس کو ایسا لگے کہ میں نے پہلی کال میں جو اس نے طلاق والے الفاظ کہے تھے، جیسا کہ میں نے نہیں سنے، تاکہ شروع سے دوبارہ کال پر وہ بات ریکارڈ کرسکوں، تو پھر میری بیٹی نے اپنے شوہر سے کہا کہ مجھے کیوں لینے نہیں آرہے ہو؟ تو اس پر اس کے شوہر نے کہا کہ تیرے باپ نے پہلے ہی آپ کو مجھے دینے سے انکار کردیا تھا اور میں خود بھی راضی نہیں ہوں، پھر میری بیٹی نے کہا کہ تیرا مقصد کیا ہے؟ تو اس پر میری بیٹی کے شوہر نے جواب دیا کہ میرا مقصد آپ کو چھوڑنے کا ہے۔ پھر میری بیٹی نے کہا کہ کس لئے؟ پھر جواب میں اس کے شوہر نے کہا کہ پس طلاق ہوگئی ہے اور مزید کونسی طلاق؟ اس پر میری بیٹی نے فورا آہ کی آواز نکالی تو اس کے بعد پھر میری بیٹی کے شوہر نے کہا کہ طلاق تو ہوگئی ہے، پھر میری بیٹی نے کہا کہ کس نے کہا ہے یہ؟ پھر میری بیٹی کے شوہر نے فورا کہا کہ میں کہہ رہا ہوں۔ نوٹ: یہ کال ریکارڈنگ بھی ہمارے پاس موجود ہے۔ اسی طرح جب میری بیٹی نے دوسرے دن اپنی ساس کو کال کی تو اس نے بھی کہا کہ اب سب کچھ ختم ہوچکا ہے اور ہم اپنے بیٹے کی اس جمعہ کے دن دوسری شادی کروا رہے ہیں اور میرا بیٹا آپ کو اب کبھی نہیں لینے آئے گا اور سب کچھ ختم ہوگیا ہے۔ نوٹ: اس عورت کی گفتگو سے اور میری بیٹی کے شوہر کی گفتگو سے یہ معلوم ہورہا تھا، جیساکہ وہ پہلے طلاق کسی مجلس میں دے چکا تھا، اگر اس نے پہلے کسی مجلس میں طلاق دی ہے یا نہیں تو کیا یہ جو فون کال پر اس نے الفاظ ادا کیے ہیں، اس پر طلاق ہوگئی، اگر ہوگئی تو کتنی بار طلاق کے حکم میں آئے گا؟ اس مسئلے کے متعلق شرعی حکم کیا ہے؟ تنقیح السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ آپ کے سوال سے یہ سمجھ میں آرہا ہے کہ فون پر بات کرنے سے پہلے ہی شوہر کسی مجلس میں طلاق دے چکا ہے٬ اگر اس نے پہلے کوئی طلاق دی ہے٬ تو کن الفاظ کے ساتھ طلاق دی ہے٬ اور وہ الفاظ کتنی مرتبہ بولے ہیں؟ براہ کرم اس بات کی وضاحت فرمائیں٬ اس کے بعد آپ کے سوال کا جواب دیا جائے گا٬ ان شاء اللہ۔ دارالإفتاء الإخلاص٬ کراچی جواب تنقیح: پہلے کسی مجلس میں اس نے دی ہے یا نہیں، یہ تو صرف میرا گمان تھا، مگر ہمیں آپ سے یہ پوچھنا ہے کہ جو اس نے فون پر الفاظ ادا کئے ہیں، اس کی وجہ سے کتنی بار طلاق ہوئی ہے؟ جزاكم الله خيرا كثيرا

جواب

صورت مسئولہ میں اگر "اب طلاق ہوگئی ہے" کے الفاظ سے شوہر ماضی میں دی گئی طلاق کی خبر دے رہا ہے، تو اس صورت میں ان الفاظ سے نئی طلاق واقع نہیں ہوگئ، اس لئے کہ شوہر سابقہ واقعے کی حکایت کر رہا ہے، لہذا سابقہ واقعے میں جتنی طلاقیں واقع ہوئی ہیں، وہی برقرار رہیں گی، اور اگر اس سے پہلے طلاق کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا، جس کی خبر دینا مقصود ہو، تو مذکورہ الفاظ سے ایک طلاق رجعی واقع ہوگئی ہے، طلاق رجعی کا حکم یہ ہے کہ عدت کے دوران شوہر اگر رجوع کرنا چاہے تو کر سکتا ہے۔

رجوع کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ زبان سے کہہ دے کہ "میں نے رجوع کرلیا ہے" تو رجوع ہوجائے گا، اور بہتر یہ ہے کہ اس پر دو گواہ بھی بنالے۔ اگر زبان سے کچھ نہ کہے، مگر آپس میں میاں بیوی کا تعلق قائم کرلے، تب بھی رجوع ہو جائے گا، لیکن اگر عدت گزر گئی، تو پھر رجوع نہیں ہوسکتا٬ تاہم باہمی رضامندی سے نیا مہر مقرر کرکے گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ نکاح کیا جاسکتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

لمافی البحر الرائق :

ولو أقر بالطلاق وهو كاذب وقع في القضاء ۔۔۔۔إذا قال أردت به الخبر عن الماضي كذبا، وإن لم يرد به الخبر عن الماضي أو أراد به الكذب أو الهزل وقع قضاء وديانة۔

(كتاب الطلاق، ج: 3، ص: 264، ط: دار الكتاب الإسلامي)

وفی المبسوط للسرخسی:

أن من أقر بطلاق سابق یکون ذٰلک إیقاعا منہ في الحال؛ لأن من ضرورۃ الاستناد الوقوع في الحال، وہو مالک للإیقاع غیر مالک للاستناد۔

(ج:6، ص: 133، ط: دارالمعرفہ بیروت)

کذا فی الفتاوی الھندیۃ :

ﻭﻟﻮ ﻗﺎﻝ ﻻﻣﺮﺃﺗﻪ: ﺃﻧﺖ ﻃﺎﻟﻖ، ﻓﻘﺎﻝ ﻟﻪ ﺭﺟﻞ: ﻣﺎ ﻗﻠﺖ؟ ﻓﻘﺎﻝ: ﻃﻠﻘﺘﻬﺎ، ﺃﻭ ﻗﺎﻝ: ﻗﻠﺖ: ﻫﻲ ﻃﺎﻟﻖ، ﻓﻬﻲ ﻭاﺣﺪﺓ ﻓﻲ اﻟﻘﻀﺎء، ﻛﺬا ﻓﻲ اﻟﺒﺪاﺋﻊ۔

(الفصل الاول فی الطلاق الصریح، ج :1، ص : 355، ط : دار الفکر)


کذا فی الھدایة:

واذا طلق الرجل امراتہ تطلیقة رجعیة او تطلیقتین فلہ ان یراجعھا فی عدتھا۔

(ج 2، ص 394، کتاب الطلاق)

وفی الشامیة مع الدر:

وندب اعلامھا بھا۔۔۔وندب الاشہاد بعدلین (قولہ ولو بعد الرجعة بالفعل۔۔۔ فالسنی ان یراجعھا بالقول ویشھد علی رجعتھا ویعلمھا ۔

(ج 3، ص401 )

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی


ماخذ :دار الافتاء الاخلاص کراچی
فتوی نمبر :8112


فتوی پرنٹ