1. دار الافتاء الاخلاص کراچی
  2. معاشرت (اخلاق وآداب )

"محمد مصطفیٰ" اور "محمد ہادی" نام رکھنا

سوال

مفتی صاحب ! کیا محمد مصطفی اور محمد ہادی نام رکھ سکتے ہیں، کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ یہ ادب کے خلاف ہے۔ براہ کرم رہنمائی فرمادیں۔

جواب

(1) "محمد" کا معنی ہے تعریف کیا ہوا، اور "مصطفیٰ" کا معنی ہے "چنا ہوا"، یہ دونوں نام ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے نام ہیں، اور یہ نام رکھنا نہ صرف بہتر ہے، بلکہ باعثِ برکت بھی ہے، لہذا "محمد مصطفیٰ" نام رکھ سکتے ہیں۔

(2) محمد" کا معنی ہے تعریف کیا ہوا، جبکہ "ہادی" ہدایت سے ہے، اس کے دو معانی آتے ہیں:

(1) ایصال الی المطلوب (مطلوب تک پہنچانا)

(2) اراءۃ الطریق (راستہ دکھلانا)

پہلے معنی کے اعتبار سے "ہادی" اللہ تعالی کے ساتھ خاص ہے کہ صرف وہی مطلوب (ہدایت وغیرہ) تک پہنچنے کی توفیق دیتا ہے، البتہ دوسرے معنی "اراءۃ الطریق" کے اعتبار سے معنی عام ہے کہ ہر آدمی راستہ دکھلا سکتا ہے، اور "ہادی" حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ناموں میں سے بھی ایک نام ہے، لہذا دوسرے معنی کا اعتبار کرتے ہوئے " محمد ہادی" نام رکھنا درست ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

کذا فی شرف المصطفى:

"268- وسمّاه مصطفى فقال: اللَّهُ يَصْطَفِي مِنَ الْمَلائِكَةِ رُسُلًا وَمِنَ النَّاسِ الآية. قوله: «وسماه مصطفى» : الاصطفاء: الاختيار من الصفوة، وهي الخلاصة، ومنه قوله تعالى: وَإِنَّهُمْ عِنْدَنا لَمِنَ الْمُصْطَفَيْنَ الْأَخْيارِ، وقال تعالى: إِنَّهُ مِنْ عِبادِنَا الْمُخْلَصِينَ، قال السيوطي عند ذكر اسم المصطفى: هو من أشهر أسمائه صلى الله عليه وسلم، قال: روى مسلم حديث: إن الله اصطفى من ولد إبراهيم إسماعيل ... الحديث، وفيه: واصطفاني من بني هاشم، اه. ولم يستدل على ذلك من القرآن."

(ج:2، ص:56)

کذا فی القاموس الوحید :

الھادی : اللہ رب العزت کے اسماء حسنی میں سے ایک نام، ہادی برحق۔
(٢) رہبر رہنما، جمع : ھداة۔

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی


ماخذ :دار الافتاء الاخلاص کراچی
فتوی نمبر :8111


فتوی پرنٹ