1. دار الافتاء الاخلاص کراچی
  2. احادیث کی تحقیق، تخریج و اسنادی حیثیت

عورت کے اکیلے حج یا عمرے پر جانے کے لیے ایک حدیث شریف سے دلیل اور اس کا جواب

سوال

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے عدی بن حاتم سے پوچھا: اے عدی ! کیا تم نے حیرہ دیکھا ہے؟ اگر تمہاری زندگی لمبی ہوئی تو تم ایک بڑھیا کو دیکھو گے کہ حیرہ سے چلے گی، حتی کہ کعبہ کا طواف کرے گی، خدا کے سوا کسی سے نہ ڈرے گی، چنانچہ عدی فرماتے ہیں کہ میں نے وہ زمانہ اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ ایک عورت حیرہ سے اکیلی اونٹ پر سوار ہوکر آئی، کعبہ کا طواف کیا اور اس کو الله کے سوا کسی کا ڈر نہیں تھا۔ (بخاری: 3595) مفتی صاحب ! مندرجہ بالا حدیث کی تشریح فرمادیں، کیونکہ لوگ اس حدیث کو سعودی حکام کی عورت کے لیے بغیر محرم اجازت حج کی پالیسی کے درست ہونے پر دلیل دے رہے ہیں۔

جواب

۱۔سوال میں ذکرکردہ روایت کو موجودہ حالات میں سعودی حکام کے عورت کو بغیر محرم سفرحج و عمرہ کی اجازت دینے کی پالیسی پر چسپاں کرنا درست نہیں ہے، کیونکہ حدیث شریف میں صحابی (رضی اللہ عنہ) کے راستوں کی بد امنی کی شکایت کرنے پر آپﷺ نے امن کی بشارت اور خوش خبری دیتے ہوئے بطورِ تمثیل فرمایا: اگر تمہاری زندگی لمبی ہو، تو تم دیکھو گے کہ ہودج میں ایک عورت حیرہ کے مقام سے سفر کرے گی اور مکہ پہنچ کر کعبہ کا طواف کرے گی اور اسے اللہ تعالی کے سوا کسی اور کا خوف نہیں ہوگا۔

غور کیا جائے تو بات واضح ہوجاتی ہے کہ آپ ﷺ کا ارشاد مبارک امن کی حالت اور کیفیت کو بیان کرنا تھا کہ اس قدر امن ہوگا کہ اگر کوئی عورت اکیلے بھی سفر کرے گی، تو اسے کوئی خوف نہ ہوگا، آپ ﷺ کی اس بات پر حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کو تعجب ہوا، کیونکہ حرہ سے مکہ آتے ہوئے راستے میں قبیلہ طی کے ڈاکو قافلوں کو لوٹ لیا کرتے تھے۔

۲۔ دوسری بات یہ ہے کہ احادیث کی روشنی میں عورت کے لیے سفر حج و عمرہ کے علاوہ کوئی بھی سفر (شرعی مسافت کے بقدر) بغیر محرم کے کرنا جائز نہیں ہے۔

حدیث شریف میں آتا ہے:

عن أبي هريرة رضي الله عنهما، قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم: «لا يحل لامرأة تؤمن بالله واليوم الآخر أن تسافر مسيرة يوم وليلة ليس معها حرمة

(بخاری شریف،حدیث نمبر:۱۰۸۸،ج:۲،ص:۴۳،ط: دارطوق النجاۃ)

ترجمہ: حضرت ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشادفرمایا: اللہ تعالی اور آخرت پر ایمان رکھنے والی کسی عورت کے لیے حلال نہیں کہ وہ دن و رات کا سفر بغیر محرم کے کرے۔

عن ابن عباس، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «لا يخلون رجل بامرأة إلا مع ذي محرم» فقام رجل، فقال: يا رسول الله، امرأتي خرجت حاجة، واكتتبت في غزوة كذا وكذا، قال: «ارجع فحج مع امرأتك»

(بخاری شریف،حدیث نمبر:۵۲۳۳،ج:۷،ص:۳۷،ط: دارطوق النجاۃ)

ترجمہ:

حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: کوئی مرد کسی عورت سے تنہائی میں نہ ملے اور کوئی عورت سفر نہ کرے، مگر اس حال میں کہ اس کے ساتھ اس کا محرم ہو، تو ایک شخص نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ میرا نام فلاں غزوے (جہادی لشکر) میں لکھا گیا ہے، اور میری بیوی حج کے لیے نکل چکی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: اب تم اپنی بیوی کے ساتھ حج کرو۔

اسی لیے فقہائے کرام نے فرمایا: عورت کے ساتھ اس کا شوہر یا کوئی محرم سفرِ حج پر جائے گا، لہٰذا اگر محرم یا شوہر عورت کے ساتھ سفر کے لیے میسر نہ ہو تو عورت پر حج فرض نہیں ہوگا۔

کتاب الفتاوی (ج:۴،ص:۴۳،ط:زمزم پبلیشرز) میں ہے:

عورت کے محرم کے بغیر سفرنہ کرنے کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کے متعدد ارشادات ہیں، جو حدیث کی کتابوں میں موجود ہیں، اس لیے خواتین کو محرم کے بغیر سفرحج سے گریز کرنا چاہیے، کیوںکہ عبادتوں کا اصل مقصود اللہ تعالی کی رضا اور خوشنودی حاصل کرنا ہے اور جب شریعت میں ایک بات سے منع کردیا گیا ہو، تو اس کے ارتکاب کی وجہ سے بجائے ثواب کے گناہ ہی کا اندیشہ ہے۔

شرعی اور فقہی نقطئہ نظر سے ہٹ کر عملی طورپر بھی سفرِ حج میں خواتین کے ساتھ شوہر یامحرم کا ہونا نہایت ضروری محسوس ہوتا ہے، آب و ہوا کی تبدیلی کی وجہ سے بار بار طبیعت خراب ہوتی ہے ، مقام کی اجنبیت، ازدحام اور زبان کی عدمِ واقفیت کی وجہ سے خواتین کو بار بار مدد کی ضرورت پیش آتی ہے، بہت سی جگہ طویل قیام کرنا پڑتا ہے اور بہت سی دشوار قانونی کارروائیوں سے گزرنا پڑتا ہے، ان مواقع پر محرم رشتے دار یا شوہر کا قدم قدم پر تعاون مطلوب ہوتا ہے۔

خلاصہ کلام :

سوال میں ذکر کردہ حدیث سےسعودی حکام کی عورت کے لیے بغیر محرم اجازت حج کی پالیسی کے درست ہونے پر دلیل پکڑنا صحیح نہیں ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

وفی البخاری:
حدثني محمد بن الحكم، أخبرنا النضر، أخبرنا إسرائيل، أخبرنا سعد الطائي، أخبرنا محل بن خليفة، عن عدي بن حاتم، قال: بينا أنا عند النبي صلى الله عليه وسلم إذ أتاه رجل فشكا إليه الفاقة، ثم أتاه آخر فشكا إليه قطع السبيل، فقال: «يا عدي، هل رأيت الحيرة؟» قلت: لم أرها، وقد أنبئت عنها، قال «فإن طالت بك حياة، لترين الظعينة ترتحل من الحيرة، حتى تطوف بالكعبة لا تخاف أحدا إلا الله، - قلت فيما بيني وبين نفسي فأين دعار طيئ الذين قد سعروا البلاد -، ولئن طالت بك حياة لتفتحن كنوز كسرى»، قلت: كسرى بن هرمز؟ قال: " كسرى بن هرمز، ولئن طالت بك حياة، لترين الرجل يخرج ملء كفه من ذهب أو فضة، يطلب من يقبله منه فلا يجد أحدا يقبله منه، وليلقين الله أحدكم يوم يلقاه، وليس بينه وبينه ترجمان يترجم له، فليقولن له: ألم أبعث إليك رسولا فيبلغك؟ فيقول: بلى، فيقول: ألم أعطك مالا وأفضل عليك؟ فيقول: بلى، فينظر عن يمينه فلا يرى إلا جهنم، وينظر عن يساره فلا يرى إلا جهنم " قال عدي: سمعت النبي صلى الله عليه وسلم، يقول: «اتقوا النار ولو بشقة تمرة فمن لم يجد شقة تمرة فبكلمة طيبة» قال عدي: فرأيت الظعينة ترتحل من الحيرة حتى تطوف بالكعبة لا تخاف إلا الله، وكنت فيمن افتتح كنوز كسرى بن هرمز ولئن طالت بكم حياة، لترون ما قال النبي أبو القاسم: صلى الله عليه وسلم يخرج ملء كفه حدثني عبد الله بن محمد، حدثنا أبو عاصم، أخبرنا سعيد بن بشر، حدثنا أبو مجاهد، حدثنا محل بن خليفة، سمعت عديا كنت عند النبي صلى الله عليه وسلم
(حدیث نمبر:۳۵۹۵،ج:۴،ص:۱۹۷،ط:دارطوق النجاۃ)

وفی التوضیح لشرح الجامع البخاری:

أحدها: فيه: -كما قَالَ المهلب- أن الرئيس قد يتشجع في بعض الأوقات إذا وجد في نفسه قوة، وإن كان اللازم له أن يحوط أمرَ المسلمين بحياطة نفسه، لكنه لما رأى الفزع المستولي، علم أنه لم يُكاد مما أخبره الله به من العصمة، وأنه لا بد أن يتم أمره حَتَّى تمر المرأة من الحيرة حَتَّى تطوف بالكعبة لا تخاف إلا الله، فلذلك أمن فزعهم باستبراء الصحراء، وكذلك كل رئيس إذا استولى على قومه الفزع ووجد من نفسه قوة فينبغي له أن يُذهب عنهم الفزع باستبرائه بنفسه.

(ج:۱۷،ص:۴۲۷،ط:دارالنوادر)
وفی الھندیۃ:
(ومنها المحرم للمرأة) شابة كانت أو عجوزا إذا كانت بينها وبين مكة مسيرة ثلاثة أيام هكذا في المحيط، وإن كان أقل من ذلك حجت بغير محرم كذا في البدائع والمحرم الزوج، ومن لا يجوز مناكحتها على التأبيد بقرابة أو رضاع أو مصاهرة كذا في الخلاصة ويشترط أن يكون مأمونا عاقلا بالغا حرا كان أو عبدا كافرا كان أو مسلما هكذا في فتاوى قاضي خان والمجوسي إذا كان يعتقد إباحة مناكحتها لا يسافر معها كذا في محيط السرخسي والمراهق كالبالغ وعبد المرأة ليس بمحرم لها كذا في الجوهرة النيرة ولا عبرة للصبي الذي لا يحتلم والمجنون الذي لا يفيق كذا في محيط السرخسي وتجب عليها النفقة والراحلة في مالها للمحرم ليحج بها، وعند وجود المحرم كان عليها أن تحج حجة الإسلام، وإن لم يأذن لها زوجها، وفي النافلة لا تخرج بغير إذن الزوج، وإن لم يكن لها محرم لا يجب عليها أن تتزوج للحج كذا في فتاوى قاضي خان ثم تكلموا أن أمن الطريق وسلامة البدن - على قول أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - ووجود المحرم للمرأة شرط لوجوب الحج أم لأدائه، بعضهم جعلوها شرطا للوجوب وبعضهم شرطا للأداء، وهو الصحيح وثمرة الخلاف فيما إذا مات قبل الحج فعلى قول الأولين لا تلزمه الوصية وعلى قول الآخرين تلزمه كذا في النهاية.

(ج:۱،ص:۲۱۸،ط:دارالفکر)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی


ماخذ :دار الافتاء الاخلاص کراچی
فتوی نمبر :8109


فتوی پرنٹ