1. دار الافتاء جامعہ اشرفیہ لاہور
  2. کتاب الصلوٰۃ

نماز فجر کی جماعت کے دوران ادائیگی سنت کا حکم

سوال

جب فجر کی جماعت کھڑی ہو تو اس دوران فجر کی دو سنت ادا کی جا سکتی ہیں یا نہیں امام شافعی رحمہ اللہ کے مطابق واجد الوتر کیا چیز ہے؟

جواب

(۱) نماز فجر کی سنتوں کی ادائیگی کی بہت تاکید آئی ہے لہٰذا اگر جماعت کھڑی ہو اور مقتدی نے سنت ادا نہ کی ہو تو اگر سنت کی ادائیگی کے بعد امام کے ساتھ ایک رکعت پا لینے کی امید ہو تو اس کو چاہیے کہ وہ سنت کو ادا کر کے امام کے ساتھ شامل ہو جائے۔

ومن انتھی الی الامام فی صلاۃ الفجر وھولم یصلی رکعتی الفجران خشی أن یفوتہ رکعۃ ویدرک الاخریٰ یصلی رکعتی الفجر عند باب المسجد ثم یدخل وان خشی فوتھما دخل مع الامام کذافی الھدایۃ۔ (عالمگیری، ص ۱۲۰، ج ۱)

(۲)احناف کے ہاں وتر کی تین رکعات ہیں ایک سلام کے ساتھ جو روایات سے ثابت ہے۔

والوتر ثلاث رکعات لایفصل بینھن بسلام کذافی الھدایۃ۔ (عالمگیری ص ۱۱۱، ج ۱)

عن علیؓ قال کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بوتر بثلاث یفرأ فیھن بتسع سور من المفصل یقرأ فی کل رکعۃ بثلات سور اٰخرھن قل ھو اللہ احد (الحدیث) (ترمذی شریف ص ۶۱، ج ۱)"


ماخذ :دار الافتاء جامعہ اشرفیہ لاہور
فتوی نمبر :108


PDF ڈاؤن لوڈ