1. دار الافتاء جامعہ اشرفیہ لاہور
  2. کتاب الحج

حج بدل کی شرائط و طریقہ

سوال

(۱) اگر کوئی کسی کے لیے حج بدل کرے اور اسی دوران اس بند ے پر اپنا حج بھی فرض ہو تو کیا اسے دوبارہ حج کرنا ہوگا یا حج بدل کے ساتھ ساتھ اس کا اپنا حج بھی ادا ہو جائے گا؟(۲) کن وجوہات کی بنا پر حج بدل کروایا جا سکتا ہے۔؟

جواب

(۱) جس شخص پر حج فرض ہو اس کے لیے اپنا حج چھوڑ کر حج بدل کرنا مکروہ ہے البتہ حج بدل ادا ہو جائے گا لیکن اس شخص کا اپنا حج ادا نہیں ہوگا اسے اپنا فرض حج دوبارہ ادا کرنا ہوگا۔

(۲) جس شخص پر حج فرض ہو گیا اور حج ادا کرنے کا وقت ملا لیکن ادا نہیں کیا اور بعد میں ادا کرنے سے عاجز ہو گیا، یا قید ہو گیا، یا ایسا مرض لاحق ہو گیا کہ جس کی دور ہونے کی امید نہیں یا عورت کے لیے محرم نہ ہونا تو ان صورتوں میں دوسرے سے حج کرانا فرض ہے اپنی زندگی میں کرائے یا مرنے کے بعد حج کرانے کی وصیت کر جائے البتہ اس کے لیے درج ذیل شرائط کا ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔

(1) جو شخص حج کرائے اس پر حج فرض ہو چکا ہو اگر فرض ہونے سے پہلے حج بدل کروایا تو فرض ہونے کے بعد دوبارہ حج کروانا ہوگا۔ (2) حج فرض ہونے کے بعد وہ ادا کرنے سے عاجز آچکا ہو۔ (3) موت کے وقت تک عاجز رہے۔ اگر مرنے سے پہلے جانے پر قدرت ہوگئی ہو تو دوبارہ خود حج ادا کرنا ضروری ہوگا۔ (4) مصارف سفر میں حج کروانے والے کا مال خرچ ہونا۔ (5) حج بدل کرنے والا حج بدل کرنے کا طریقہ جانتا ہو۔ (ردالمختار ص ۶۰۰، ج ۲ مطبوعہ ایچ ایم سعید)"


ماخذ :دار الافتاء جامعہ اشرفیہ لاہور
فتوی نمبر :269


فتوی پرنٹ