1. دار الافتاء جامعہ اشرفیہ لاہور
  2. کتاب الحج

والدین کی اجازت کے بغیر عمرہ کرنا

سوال

میں اپنے میاں کے ساتھ عمرہ پر جا رہی ہوں اور وہاں مکہ مکرمہ میں اپنی بہن کے پاس بھی پندرہ دن رہنا چاہتی ہوں۔(۲) میری ساس کو فالج ہے اور سسر کو دل کا عارضہ ہے۔ ایک دوسرے کی دیکھ بھال نہیں کر سکتے۔ (۳) اچانک ایمرجنسی میں ان کی دیکھ بھال کا کوئی انتظام نہیں۔ کوئی ایسا رشتہ دار نہیں جو ان کے پاس رہ سکے۔ (۴) کیا ایسے حالات میں ہمیں عمرہ پر چلے جانا ٹھیک ہے؟(۵) علاوہ ازیں یہ کہ کیا یہ میری ذمہ داری ہے کہ امیں اپنی ساس اور سسر کی دیکھ بھال کروں مہربانی فرما کر رہنمائی فرمائیں؟

جواب

اگر والدین تنگ دست ہوں اور بیٹے کے سفر پر جانے کی صورت میں ان کے خرچ کا انتظام نہ ہو، یا ضعیف اور بیمار ہوں اور ان کی خدمت اور خبر گیری کے لیے اور کوئی موجود نہ ہو تب تو ان کو اجازت اور مرضی کے خلاف عمرہ کے سفر پر جانا جائز نہیں، لیکن اگر ان کے خرچ، خدمت اور علاج معالجہ کا مناسب اور معقول متبادل موجود ہو تو عمرہ پر جانا درست ہے۔

چونکہ مذکورہ صورت میں والدین کی خدمت کا بظاہر کوئی اور معقول انتظام نہیں ہے، اس لیے والدین کی خدمت بیٹے پر لازم ہے اور ان حالات میں اس کا عمرہ پر جانا درست نہیں ہے۔

والدین کی صحت یابی یا خدمت اور علاج کا متبادل اور معقول انتظام ہونے تک اس سفر کو مؤخر کرنا چاہیے۔

اگرچہ بہو کے ذمہ ساس اور سسر کی خدمت کرنا شرعاً واجب نہیں لیکن اخلاقی طور پر بیوی کو اپنے ساس، سسر کی خدمت کرنی چاہیے بالخصوص جبکہ وہ خدمت کے محتاج بھی ہوں تو ان کی خدمت کا اجر و ثواب مزید بڑھ جاتا ہے۔"


ماخذ :دار الافتاء جامعہ اشرفیہ لاہور
فتوی نمبر :270


فتوی پرنٹ