1. دار الافتاء جامعہ اشرفیہ لاہور
  2. کتاب الحج

حج فرض ادا کرنے کیلئے پہلے والدین کو حج کروانا یا پہلے بیٹیوں کی شادی کرانا؟

سوال

کیا حج فرض ادا کرنے کیلئے پہلے والدین کو حج کروانا یا پہلے بیٹیوں کی شادی کرانا ضروری ہے؟

جواب

(۱) صورت مسئولہ میں اگر لڑکے کے پاس اتنی استطاعت ہو کہ والدین کو اپنے ساتھ لے جا سکتا ہے تو والدین کو اپنے ساتھ لے جائے، اور اگر اس وقت والدین کو ساتھ لے جانے کی حیثیت نہ ہو تو خود حج کے لیے چلا جائے۔ پہلے والدین کو حج کرانا اس کے بعد خود کرنا یہ شرعی حکم نہیں ہے۔ البتہ استطاعت ہو جانے پر والدین کو بھی حج کرا دے اس کی کوشش جاری رکھے۔ یاد رہے کہ اگر والدین کو حج کروا یا خود نہ کیا تو پھر بھی اس کو بعد میں اپنا حج ادا کرنا لازم ہے۔

(۲) جب حج فرض ہو گیا تو حج کے لیے جانا ضروری ہے، خواہ اولاد کی شادی ہوئی ہو یا نہ ہوئی ہو ہو۔ نہ جانے پر گنہگار ہوگا اور یہ کہنا کہ اولاد کی شادی کرائے بغیر حج فرض نہیں ہوتا اور حج کے لیے نہیں جا سکتا یہ اعتقاد درست نہیں ہے۔

وفی الاشباہ معہ الف و خاف العزوبۃ ان کان قبل الخروج اھل بلدہ فلہ التزوج ولو فقتہ الحج۔ (شامی ص ۱۹۸)"


ماخذ :دار الافتاء جامعہ اشرفیہ لاہور
فتوی نمبر :274


فتوی پرنٹ