1. دار الافتاء جامعہ اشرفیہ لاہور
  2. کتاب الطلاق

کیا شوہر اپنا حق طلاق ختم کر سکتا ہے؟

سوال

کیا ایک مرد کے لیے مناسب ہے کہ وہ اپنے زبانی طلاق دینے کے حق سے دستبردار ہو جائے جب کہ دونوں میاں بیوی بھی زبانی طلاق پر عقیدہ نہ رکھتے ہوں اور دونوں اس حق سے دستبردار ہونا پسند کرتے ہوں تاکہ ایک محبت بھری شادی بیوقوفانہ غصہ کی نذر نہ ہو سکے۔ کیا اس کی اجازت ہے کہ میں اپنی زبانی طلاق کو کالعدم قرار دے دوں جب کہ میری بیوی بھی خوش ہے۔ ہم نے آپس میں معاہدہ کیا ہے کہ اس کو زبانی طلاق نہیں دے سکوں گا۔ آپ قرآن و سنت کی روشنی میں بتائیں کہ زبانی طلاق دینے کا حق کیسے ختم کیا جا سکتا ہے؟

جواب

سوال میں ذکر کردہ صورت کے اعتبار سے کسی شخص کے طلاق دینے کے حق سے دستبردار ہونے کی کوئی حقیقت نہیں ہے جب بھی وہ طلاق کا لفظ اپنی بیوی کے لیے استعمال کرے گا اس وقت طلاق واقع ہو جائے گی پہلے یہ بات کہنے سے کہ میں مستقبل میں کیے جانے والے طلاق کے الفاظ سے بری ہوں اس سے وقوع طلاق پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔"


ماخذ :دار الافتاء جامعہ اشرفیہ لاہور
فتوی نمبر :313


فتوی پرنٹ