1. دار الافتاء جامعہ اشرفیہ لاہور
  2. کتاب الطلاق

(باب النفقۃ و السکنٰی) بیوی کے لیے علیحدہ رہائش اختیار کرنے کا حکم

سوال

مسئلہ یہ ہے کہ کیا اگر بیوی خاوند سے کہے کہ میں مشترکہ کنبہ میں رہنا نہیں چاہتی علیحدہ رہنا چاہتی ہوں چونکہ اس کے خیال کے مطابق موجودہ ماحول میں رہنے سے ان کے بچوں کی مناسب اسلامی تربیت نہ ہو پائے گی۔ کیا بیوی کا یہ مطالبہ جائز ہے؟ علاوہ ازیں مفتی ابراہیم ڈیسائی کہتے ہیں کہ والدین سے دور رہنے میں کوئی حرج نہیں اصل نقصان اس وقت ہے جبکہ آپ والدین کو نظر انداز کریں۔ خاص طور پر بڑھاپے میں یا جب ان کو آپ کی ضرورت ہو، آپ کو یقین ہونا چاہیے کہ آپ کے والدین کی دیکھ بھال محفوظ ہاتھوں میں ہے اور بیوی بھی اپنے خاوند کو ماں باپ کی دیکھ بھال کرنے یا وقتاً فوقتاً ان کے پاس جانے سے نہ روکے۔ اگر مذکورہ صورت حال میں آپ کی ماں باپ یا دیگر کنبہ سے علیحدگی میں بچوں کی بہتر پرورش اور تربیت ہو سکتی ہے تو پھر اس کنبہ کے دیگر اراکین بشمول ماں باپ کے علیحدہ رہنا بے جا نہیں۔ مشترکہ کنبہ کی شکل میں بے شک ذمہ داریوں میں کچھ اضافہ ہوتا ہے اس لیے بڑی احتیاط سے وقت گذارنا ہوتا ہے۔ مہربانی فرما کر آپ بھی اس معاملہ میں رہنمائی فرمائیں۔

جواب

اگر بیوی یہ مطالبہ کرے کہ مجھے ایسی رہائش چاہیے جہاں شوہر کے والدین اور اس کے عزیز و اقارب میں سے کوئی نہ رہتا ہو تو وہ اس مطالبہ میں حق بجانب ہے، عورت کا یہ حق ہے کہ اس کو الگ رہائش فراہم کی جائے، اگر وہ اپنا حق چھوڑتی ہے تو اس کو اس بات کا اختیار ہے اور اگر مطالبہ کرتی ہے تو شوہر کے ذمہ الگ رہائش کا بندوبست لازم ہوگا۔"


ماخذ :دار الافتاء جامعہ اشرفیہ لاہور
فتوی نمبر :314


فتوی پرنٹ