1. دار الافتاء جامعہ اشرفیہ لاہور
  2. کتاب الطلاق

’’اب ہمارا فیصلہ ہونا چاہیے ہم اکٹھے نہیں رہ سکتے‘‘ اور ’’آج یہاں اب سے تمہاری اور میری ختم‘‘ الفاظ کا شرعی حکم

سوال

گھریلو لڑائی جھگڑا کے دوران شوہر غصہ میں بیوی سے کہتا ہے کہ ’’اب ہمارا فیصلہ ہو جانا چاہیے ہم اکٹھے نہیں رہ سکتے‘‘ یا یہ کہتا ہے ’’آج یہاں اب سے تمہاری اور میری ختم اور اپنے گھر والوں کو بلائو اور فیصلہ کرائو‘‘۔ سوال یہ ہے کہ اوپر مذکورہ باتوں سے کیا طلاق واقع ہو جاتی ہے جبکہ میاں نے غصہ میں بھی طلاق کا لفظ استعمال نہیں کیا۔

جواب

صورت مسئولہ میں شوہر کے اس قول ’’اب ہمارا فیصلہ ہوجانا چاہئے ہم اکھٹے نہیں رہ سکتے‘‘ سے کچھ بھی واقع نہیں ہوا اور شوہر کے اس قول ’’آج یہاں اب سے تمہاری اور میری ختم‘‘ کا حکم یہ ہے کہ اگر اس کی مراد اس سے نکاح کو ختم کرنا تھا تو ایک طلاق بائن واقع ہوچکی ہے۔

وماکان بالفار سیۃ من الالفاظ مایستعمل فی الطلاق وفی غیرہ فھومن کنایات الفارسیۃ فیکون حکمہ حکم کنایات العربیۃ فی جمیع الاحکام۔(ھندیہ ۱/۳۷۹)

اب اس صورت میں حکم یہ ہے کہ عدت کے اندر اور عدت کے بعد باہمی رضامندی سے نکاح ہوسکتا ہے اور میاں کے اس قول ’’اپنے گھر والوں کو بلاؤ اور فیصلہ کرواؤ‘‘ سے کچھ بھی واقع نہیں ہوا۔"


ماخذ :دار الافتاء جامعہ اشرفیہ لاہور
فتوی نمبر :318


فتوی پرنٹ