1. دار الافتاء جامعہ اشرفیہ لاہور
  2. کتاب الطلاق

طلاق کا جھوٹا اقرار کرنا

سوال

میں بیوی کو فون پر کہہ کر آیا کہ طلاق کا انتظار کرو۔ پھر بھائی سے گفت و شنید کرنے لگا بھائی نے پوچھا کہ تم نے اپنی بیوی کو کیا کہا۔ میں نے صرف لفظ طلاق لکھا، زبانی یہ بھی نہیں کہا کہ ’’طلاق دی‘‘ بلکہ صرف لفظ طلاق لکھ دیا جبکہ بیوی کو تو ابھی انتظار کرنے کو ہی کہا تھا۔

جواب

آپ کے اپنے بھائی کو جواب دینے میں لفظ ’’طلاق‘‘ لکھنے سے بظاہر یہی معلوم ہو رہا ہے کہ آپ اس کو یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ ’’میں نے اپنی بیوی کو طلاق دی‘‘ اگرچہ آپ نے صرف لفظ ’’طلاق‘‘ ہی لکھا ہے اس کے ساتھ کوئی سابقہ یا لاحقہ نہیں لگایا لیکن چونکہ اس کا سوال یہ تھا ’’کہ تم نے اپنی بیوی کو کیا کہا؟‘‘ اور آپ نے جواب میں صرف لفظ ’’طلاق‘‘ دس مرتبہ لکھا تو اس سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ آپ یہ کہنا چاہ رہے ہیں ’’میں نے طلاق دی‘‘ حالانکہ آپ نے حقیقت میں اپنی بیوی کو طلاق دی نہیں تھی شرعی اصطلاح میں اس کو ’’طلاق کا جھوٹا اقرار‘‘ کہتے ہیں اور اس کا حکم یہ ہوتا ہے کہ دیانۃً طلاق نہیں ہوتی البتہ اگر معاملہ عدالت تک پہنچ گیا تو قاضی ظاہر پر فیصلہ کرے گا اور طلاق نافذ کرے گا۔ بہرحال آپ کی بیوی پر دیانۃً کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی۔

ولواقر بالطلاق کا ذبا اوھاز لاوقع قضائً لادیانۃً۔ (شامی ۳/۲۳۶)"


ماخذ :دار الافتاء جامعہ اشرفیہ لاہور
فتوی نمبر :324


فتوی پرنٹ