1. دار الافتاء جامعہ اشرفیہ لاہور
  2. کتاب الطلاق

(۱) محض ناپسندیدگی کی بناء پر زوجہ کو طلاق دینے کا حکم (۲) طلاق کے بعد ماں بچے کو کب تک رکھ سکتی ہے؟

سوال

ایک سال پہلے میری ایک لڑکی سے شادی ہوئی جو کہ ہمارے دوستوں کے ذریعہ سے طے ہوئی تھی۔ مگر لڑکی والوں نے ہمیں اپنی لڑکی کی عمر غلط بتائی اور اس کی تعلیم کا معیار بھی بی اے ، بی ایڈ بتایا حالانکہ وہ میٹرک بھی نہیں اس بات کا مجھے شادی کے دو ماہ بعد پتہ چلا۔ اب وہ میری بیٹی کی ماں بن چکی ہے اور میں نے اس کو طلاق دے دی ہے، ادھر میری والدہ میری بیٹی جو کہ اپنی ماں کے پاس ہی ہے اس کو حاصل کرنے کے لیے مجھے مجبور کرتی ہے اس ساری صورتحال میں شرعی حکم کیا ہے؟

جواب

(۱) آپ کا اس عورت کو محض اس وجہ سے کہ وہ آپ کی شرائط پر پوری نہ اترتی تھی اور آپ کے ساتھ اس کے والدین نے جھوٹ بولا تھا طلاق دینا شرعاً جائز نہیں تھا۔

فاذا شرط احدھما لصاحبہ السلامۃ عن العمی والشلل والزمانۃ اوشرط صفۃ الجمال اوشرط الزوج علیھا صنعۃ البکارۃ فوجد بخلاف ذالک لایثبت لہ الخیار ھکذا فی التتار خانیۃ۔ (ہندیۃ ۱/۲۷۳)

لیکن چونکہ اب آپ طلاق دے چکے ہیں اور طلاق کی تعداد و الفاظ آپ نے تحریر نہیں کیے اس لیے ہم اس بارے میں کچھ عرض کرنے سے قاصر ہیں کہ آپ اس سے رجوع کر سکتے ہیں یا نہیں۔ یہ حکم ہم طلاق کے الفاظ اور تعداد معلوم ہونے کے بعد ہی بتا سکیں گے۔

(۲)بچی آپ والدہ سے شرعاً زبردستی نہیں لے سکتے نو سال کی عمر تک اس کو والدہ رکھ سکتی ہے کیونکہ اس مدت میں شریعت نے اس کو حق حضانت دیا ہے۔ نو سال کے بعد آپ اس سے بچی لے سکتے ہیں اس دوران بچی کا خرچ آپ کو دینا ہوگا۔

والام والجدۃ احق بالجاریۃ حتی تحیض وفی نوادر ہشام عن محمد اذا بلغت حدالشہوۃ فالاب احق وھذا صحیح۔ (ہندیۃ ۱/۶۷۵)

قال الفقیہ ابواللیث مادون تسع سنین لاتکون مشتھاۃ وعلیہ الفتویٰ کذافی فتاویٰ قاضیخان۔ (ہندیۃ ۱/۶۷۵)"


ماخذ :دار الافتاء جامعہ اشرفیہ لاہور
فتوی نمبر :325


فتوی پرنٹ