1. دار الافتاء جامعہ اشرفیہ لاہور
  2. کتاب الطلاق

کسی چیز کے کھانے پر طلاق کو معلق کرنے کا حکم

سوال

اگر کوئی خاوند بیوی کو کہے کہ اگر تو نے فلاں چیز کھائی تو تیرے او رمیرے درمیان کوئی رشتہ نہیں اور کچھ عرصہ بعد کہتا ہے کہ تم وہی چیز کھائو ایسی صورت میں آپ کیا فرماتے ہیں؟

جواب

سوال میں ذکر کردہ صورت کے مطابق جب شوہر طلاق کی نیت سے بیوی کو یہ کہے کہ اگر تو نے فلاں چیز کھائی تو تیرے او رمیرے درمیان کوئی رشتہ نہیں اور کچھ عرصہ بعد بیوی کو وہ چیز کھانے کا کہتا ہے اگر بیوی وہ چیز کھا لے تو ایک طلاق بائن پڑ جائے گی جس کے بعد عدت کے دوران یا عدت گذرنے کے بعد بغیر حلالہ آپس میں دوبارہ نکاح کر سکتے ہیں اور اب شوہر کے پاس صرف دو طلاقوں کا اختیار باقی رہ جائے گا۔

واذا اضافہ الی شرط وقع عقیب الشرط اتفاقا مثل ان یقول لامرأۃ ان دخلت الدار فانت طالق (عالمگیریہ ج ۱، ص ۴۲۰) ’’ولوقال لھا لانکاح بینی و بینک أوقال لم یبق بینی وبینک یقع الطلاق اذا نوی‘‘۔ (عالمگیریہ ۱/۳۷۵)"


ماخذ :دار الافتاء جامعہ اشرفیہ لاہور
فتوی نمبر :326


فتوی پرنٹ