1. دار الافتاء جامعہ اشرفیہ لاہور
  2. کتاب الطلاق

شرعی نکاح کے بعد بیوی کا مذکورہ جملہ ’’یہ فیصلہ میری مرضی کے مطابق نہیں ہوا‘‘ یا ’’میں اس فیصلہ پر راضی نہیں ہوں‘‘ کہنے سے نکاح کا حکم

سوال

ایک صاحب کی شادی ہوئی پہلی رات وہ صاحب بیوی کو نصیحت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہمارا نکاح اللہ کے فیصلے کے مطابق ہوا ہے جواباً بیوی کہتی ہے : (۱) یہ فیصلہ میری مرضی کے مطابق نہیں ہوا (حالانکہ ایجاب و قبول رضا مندی سے ہوا ہے) شرعاً نکاح کے بارے کیا حکم ہے؟(۲) اگر اس نصیحت کا جواب یوں دے، کہ میں اس فیصلہ پر راضی نہیں ہوں تو شرعاً کیا حکم ہے؟

جواب

اگر لڑکی عاقلہ، بالغہ، آزاد ہو تو اس کے نکاح کے لیے اس کی رضا مندی ضروری ہے اور بغیر اس کی رضا مندی کے اس کا نکاح درست نہیں ہے لیکن جب جب بغیر اکراہ شرعی کے نکاح شرعی طریقے پر منعقد ہو گیا تو نکاح شرعی کے بعد لڑکی کے محض اتنا کہنے سے کہ یہ فیصلہ میری مرضی کے مطابق نہیں ہوا یا میں اس فیصلہ پر راضی نہیں ہوں نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔

(۱) ولا یزوج الکبر البالغۃ ابو ھا علی کرہ منھا خلافا للشافعی۔

(فتاویٰ قاضیخان علی ھامش الھندیہ فی الفصل الاولیاء ۱/۳۵۸)

(۲) قال فی الھندیۃ: لایجوز نکاح أحد علی بالغۃ صحیحۃ العقل من اب او السلطان بغیر اذنھا بکرا کانت اوثیباً۔ (ایضاً ص ۲۸۷، ج ۱ کتاب النکاح)

(۳) قال المرغینانی: ’’وینعقد نکاح الحرۃ العاقلۃ البالغۃ برضاھا۔

(الھدایہ ۲/۵۷۴م باب فی الاولیاء والکفار)

(۴) ایضاً فی التاتار خانیۃ ۴/۲۵ کتاب النکاح معرفۃ الاولیائ۔

(۵) البحر الرائق ۳/۱۱۰، کتاب النکاح باب الاولیاء والاکفائ۔"


ماخذ :دار الافتاء جامعہ اشرفیہ لاہور
فتوی نمبر :304


فتوی پرنٹ