1. دار الافتاء جامعہ اشرفیہ لاہور
  2. کتاب الطلاق

بذریعہ نوٹس ایک یا دو طلاق بھیجنا

سوال

میںنے اپنی اہلیہ کو آج سے تقریباً چھ سال پہلے کسی دبائو کے تحت طلاق کا ایک نوٹس لکھا تھا جو کہ اس نے وصول ہی نہیں کیا تھا بعد میں نے بلا تاخیر اس سے صلح و رجوع کر لیا اور آج سے تقریباً اڑھائی ماہ پہلے ایک مجبوری کے تحت اپنی بیوی کو طلاق کا ایک نوٹس اور لکھا لیکن صرف چند دن بعد ہی میں نے اس کو رجوع کے لیے بار بار کہا مگر وہ کسی مجبوری یا غلط فہمی کی بنا پر رضا مند نہ ہوئی لہٰذا مہربانی فرما کر ان حالات کے پیش نظر مجھے میری اور میری اہلیہ کی موجودہ صورتحال کی بابت تفصیلاً آگاہ فرما دیویں۔

جواب

بشرط صحت سوال اگر دونوں نوٹسوں میں ایک ایک طلاق دی گئی ہے تو اب عدت کے اندر خاوند اپنی بیوی سے رجوع کر سکتا ہے اور رجوع کرنے میں عورت کی رضامندی ضروری نہیں، عدت کے اندر بیوی کی رضا مندی کے بغیر بھی طلاق سے رجوع کر سکتا ہے۔

(۱) ولو قال انت طالق الطلاق وقال عنیت بقولی طالعہ واحدۃ وبقول الطلاق اخری یصدق فتقع رجعتیان ان کانت مدخولا بھا۔

(ہندیۃ ۱/۲۵۵ کتاب الطلاق باب الثانی فی ایقاع الطلاق)

(۲) کقولہ انت طلاق انت طالق فیقح رجعیتان اذا کانت مدخولا بھا۔

(تبیین الحقائق شرح کنزالدقائق ۲/۱۹۹ کتاب الطلاق)

(۳) والرجعی لایزیل الملک الابعد معنی العدۃ۔

(ردالمحتار علی الدرالمختار ۲/۵۷۶ کتاب الطلاق)"


ماخذ :دار الافتاء جامعہ اشرفیہ لاہور
فتوی نمبر :305


فتوی پرنٹ