1. دار الافتاء جامعہ اشرفیہ لاہور
  2. کتاب الرھن

گروی رکھی ہوئی چیز سے فائدہ حاصل کرنا

سوال

(۱) اسلام میں گروی یا رہن کا کیا تصور ہے کیا یہ سود کے زمرہ میںتو نہیں آتا۔(۲) مشینری یا کار گروی لینا حلال ہے یا نہیں قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔

جواب

(۱) کسی آدمی سے اپنا حق وصول کرنے کے لیے اس کی کوئی شے روک لینا رہن یا گروی کہلاتا ہے شرعاً رہن کے طور پر رکھی گئی شے سے فائدہ اٹھانا اور اس کو استعمال کرنا درست نہیں ہے رہن رکھنے والے سے طے کر کے رہن کو استعمال کرنا سود اور ربوا ہے نیز اگر طے نہیں کیا لیکن اس کا استعمال مصروف ہے تو اس صورت میں بھی ربوا ہوگا۔

والغالب من احوال الناس انھم انما یریدون عندالدفع الانتفاع .......... وھذا بمنزلۃ الشرط لان المعروف کا لمشروط وھو ممابعین المنع الخ

(شامی ص ۴۸۳، ج ۶)

(۲) مشینری یا گاڑی کو بطور رہن رکھوانا درست ہے لیکن رہن وصول کرنے والے کے لیے ان اشیاء کا استعمال کرنا جائز نہیں۔"


ماخذ :دار الافتاء جامعہ اشرفیہ لاہور
فتوی نمبر :368


فتوی پرنٹ