1. دار الافتاء جامعہ اشرفیہ لاہور
  2. کتاب الوکالہ

وکیل کا اپنے مؤکل سے اصل رقم سے زائد وصول کرنا

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان دین متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک دوکاندار اپنے خریدار کو بل اصل حقیقت سے ہٹ کر بنا دیتا ہے اس وجہ سے کہ یہ خریدار ہمیشہ کے لیے مال مجھ سے خریدتا رہے اور خریدار نے کسی ادارے سے زیادہ بل بنوانے کی وجہ سے اصل قیمت سے زیادہ پیسے اپنی جیب میں ڈال لیتا ہے کیا اس طرح کرنا دوکاندار اور خریدار کے لیے ٹھیک ہے۔ شریعت میں کیا حکم رکھتے ہیں؟

جواب

خریدار کے لیے اصل قیمت خرید کو چھپا کر جعلی بل بنوانا اور اس کی بنیاد پر اضافی رقم لینا سراسر ناجائز اور حرام ہے، اس کے لیے یہ اضافی رقم حلال نہیں، اس پر لازم ہے کہ وہ اضافی رقم مالک کو واپس کرے اور آئندہ اس گناہ سے بچے، اور دکاندار کے لیے ایسے خریدار کو اصل بل کی بجائے جعلی بل بنا کر دینا اس کے ساتھ ناجائز کام میں تعاون ہے جو ناجائز ہے، دوکاندار کو بھی اس گناہ سے بچنا واجب ہے، تاہم دوکاندار کے لیے اپنی اشیاء کی اصل قیمت حرام نہیں۔"


ماخذ :دار الافتاء جامعہ اشرفیہ لاہور
فتوی نمبر :365


PDF ڈاؤن لوڈ