1. دار الافتاء جامعہ اشرفیہ لاہور
  2. کتاب الرھن

رہن رکھوائی ہوئی چیز کو ذاتی استعمال میں لانا یا کرائے پر دینا

سوال

میں نے ایک عیسائی سے 7500/- روپے کے عوض مکان رہن پر لیا ہے اور بغیر کسی دبائو کے میں نے زمین کے کاغذات پر دستخط کر دئیے کیونکہ اس شخص کو دو سال کی مدت کے لیے رقم درکار تھی جس کے بدلے اس نے اپنا مکان رہن رکھ دیا کیا میں نے جس سے مکان لیا ہے اسی کو یا کسی اور شخص کو مکان کرائے پر دے سکتا ہوں۔

جواب

صورت مسئولہ میں مرہون مکان کو آپ صرف اپنے قبضہ میں رکھ سکتے ہیں نہ اس کو خود استعمال کر سکتے ہیں اور نہ کسی کو کرایہ پر دے کر اس کا کرایہ استعمال کر سکتے ہیں ایسا کرنا شرعاً سود ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے۔

قال فی المنح وعن عبداللہ محمد بن اسلم السمر قندی وکان من کبار علماء سمر قندانہ لایحل لہ ان ینتفع بشیٔ منہ بوجہ من الوجوہ وان اذن لہ الراھن لانہ اذن لہ فی الربالانہ یستوفی دینہ کاملاً فتبقی لہ المنفعۃ فضلاً فیکون ربًا وھذا امر عظیم۔ (شامی ۳/۳۴۳)"


ماخذ :دار الافتاء جامعہ اشرفیہ لاہور
فتوی نمبر :367


PDF ڈاؤن لوڈ