1. دار الافتاء جامعہ اشرفیہ لاہور
  2. کتاب الوصایا

جعلی وصیت نامے کے ذریعے وارث کی حق تلفی کا حکم

سوال

میرے والد صاحب ایک فیکٹری کے مالک تھے جو 1985 ء میں وفات پا گئے اور وراثت میں ایک فیکٹری اور ایک 9 کمروں والا مکان چھوڑ گئے میں اپنے کنبے میں سب سے چھوٹا ہوں میرے 5 بھائی اور 2 بہنیں ہیں۔ میرے بھائی نے جائیداد 6 لاکھ پونڈ میں فروخت کر دی ہے جبکہ ابھی پاکستان میں بھی کافی جائیداد ہے میرے بھائی نے مجھے کچھ نہیں دیا اور بلکہ مجھے غلط وصیت نامے دکھا کر دھوکا دیا ہے اور اب وہ پاکستان کی جائیداد بھی فروخت کر رہے ہیں اور مجھے کچھ دئیے بغیر سب آپس میں تقسیم کر رہے ہیں۔

جواب

آپ کے بھائیوں کا یہ ظلم کرنا شرعاً گناہ کبیرہ ہے وہ اپنے پیٹوں میں آگ بھر رہے ہیں آپ ان سے اپنا حق وصول کرنے کے لیے ہر ممکن چارہ جوئی کریں۔ وصیت نامہ اگر ورثاء کے لیے ہو تو چاہے وہ اصلی ہی کیوں نہ ہو شرعاً ناقابل اعتبار ہے اس لیے کہ ورثاء کے حصے متعین ہیں۔

’’ان اللہ تعالیٰ قد اعطی کل ذی حق حقہ فلا وصیۃ لوارث (ترمذی ۲ / ۳۳)

اور اگر وصیت نامہ غیر وارث کے لیے ہے تو وہ 1/3 مال میں سے ادا کی جائے گی۔"


ماخذ :دار الافتاء جامعہ اشرفیہ لاہور
فتوی نمبر :498


PDF ڈاؤن لوڈ