1. دار الافتاء جامعہ اشرفیہ لاہور
  2. باب الاذان والاقامۃ

سمجھ دار لڑکے کی اذان کا حکم

سوال

کیا بیس پچیس سال کی عمر کے اشخاص کی موجودگی میں بارہ تیرہ سال کا لڑکا اذان دے سکتا ہے؟ میرے سامنے یہ ہو رہا تھا میں نے بچے کو روک دیا لہٰذا ایک اور شخص سے اذان دلائی رہنمائی فرمائیں۔

جواب

ایسا بچہ جو اچھائی برائی اور پاکی ناپاکی میں تمیز کر سکتا ہو اس کی اذان درست ہے اور جو بچہ اس درجے کا سمجھ دار نہ ہو اس کی اذان درست نہیں اگر اس نے اذان کہہ دی تو اس اذان کا اعادہ مستحب ہے۔

ویجوز اذان صبی مراھق وفی الشامیۃ المراد بہ العاقل وان لم یراھق … وکذا یعاد اذان امرأۃ ومجنون و معتوہ و سکران وصبی لایعقل الخ (شامیۃ ص ۲۸۹، ج ۱)


ماخذ :دار الافتاء جامعہ اشرفیہ لاہور
فتوی نمبر :508


فتوی پرنٹ