1. دار الافتاء جامعہ اشرفیہ لاہور
  2. باب الاذان والاقامۃ

اذان میں کوئی کلمہ رہ جانے کا حکم

سوال

اگر اذان میں کوئی کلمہ رہ جائے تو کیا اذان دوبارہ دینا ہوگی؟

جواب

اگر اذان کے درمیان ہی یاد آجائے تو جو کلمہ چھوٹ گیا ہے وہاں سے آخر تک کے کلمات کہہ کر اذان پوری کرے اور اگر اذان پوری کرنے کے بعد یاد آئے تو غلطی درست کر کے اس کے بعد کے کلمات کا اعادہ کرے اور اگر کافی وقت گذر گیا ہو تو پھر دوبارہ اذان دینا ضروری نہیں۔ (فتاویٰ رحیمیہ ص ۱۰۳، ج ۴ ہندیہ ص ۶۲، ج ۱)


ماخذ :دار الافتاء جامعہ اشرفیہ لاہور
فتوی نمبر :509


فتوی پرنٹ