1. دار الافتاء جامعہ اشرفیہ لاہور
  2. باب الرضاعۃ

مدت رضاعت کے بعد دودھ پلانے سے حرمت رضاعت ثابت نہیں ہوتی

سوال

میرا مسئلہ یہ ہے کہ میرے سب سے چھوٹے دیور کی عمر 5سال 6مہینے کی تھی اور میرے لڑکے کی عمر اس وقت 2سال 6مہینے کی تھی میری ساس کہتی ہیں کہ تیرے لڑکے نے میرا دودھ پیا ہے جب میرے شوہر نے میری ساس اور لڑکے کی دادی سے خود پوچھا تو میری ساس نے کہا کہ اس وقت دودھ نہیں تھا صرف لڑکے کو چپ کرانے کے لیے چٹا یا تھا اور میرا لڑکا میرے دیور سے تین سال چھوٹا ہے لہٰذا آپ ا س مسئلے کو حل کر کے بتائیے کہ میرے لڑکے کی شادی میرے دیور کی لڑکی سے ہو سکتی ہے یا نہیں؟ یاد رہے کہ سب سے چھوٹے دیور کی عمر 5 سال 6 مہینے تھی جس سے دودھ پیا یعنی میرے لڑکے کی عمر 2 سال 6 ماہ تھی اور جس لڑکی سے شادی ہوگی اس سے دودھ نہیں پیا تھا۔

جواب

مذکورہ صورت میں اگر واقعتا یہ معاملہ بچے کی عمر کے دو سال چھ ماہ کے بعد پیش آیا ہے تو اس صورت میں حرمت رضاعت قائم نہیں ہوئی کیونکہ رضاعت کی مد ت اصلاً دوسال ہے اور زیادہ سے زیادہ ڈھائی سال ہے اس کے بعد اگرچہ دودھ پینا پلانا حرام ہے تاہم اس وقت دودھ پینے سے حرمت رضاعت ثابت نہیں ہوتی لہٰذا مذکورہ صورت میں نکاح جائز ہے۔

واذا مضت مدۃ الرضاع لم یتعلق بالرضاع تحریم لقولہ علیہ السلام لا رضاع بعد الفصال (الہدایۃ مع الفتح/ ۳: ۳۰۹) عالمگیریۃ/ ۱:۳۴۳ وتاتارخانیہ / ۳:۲۳۲) ولا رضاع بعد الفصال و مدۃ الرضاع عندھما سنتان وعند ابی حنیفۃ سنتان ونصف (خلاصۃ / ۲ : ۱۱)، (ولم یبح الارضاع بعد موتہ) لانہ جزء اٰدمی والانتفاع بہ بغیر ضرورۃ حرام علی الصحیح (الدر المختار/ ۳: ۲۱۱، البحر الرائق / ۳: ۲۲۳، تبیین الحقائق/ ۲:۱۸۳) امرأۃ کانت تعطی ثدیھا صبیۃ واشتھر ذالک بینھم ثم تقول لم یکن فی ثدي لبن حین القتھا ثدي ولا یعلم ذالک الامن جھتھا جاز لا بنھا ان یتزوج بھذہ الصبیۃ (تنقیح الفتاوٰی الحامدیۃ/ ۱:۳۵)


ماخذ :دار الافتاء جامعہ اشرفیہ لاہور
فتوی نمبر :555


فتوی پرنٹ