1. دار الافتاء جامعہ اشرفیہ لاہور
  2. باب الرضاعۃ

رضاعی بھانجی سے نکاح کرنے کا حکم

سوال

میں آج سے تقریبا 21سال پہلے جب پیدا ہوا تو میری والدہ بہت بیمار تھی جس کی وجہ سے میں نے اپنی والدہ کا دودھ تقریباً ایک ماہ پیا ا س کے بعد میری والدہ کادودھ ختم ہو گیا اور میں نے اپنی دادی کا دودھ پینا شروع کیا اس وقت میری دادی کا سب سے چھوٹا بیٹا دس سال کا تھا اور میری دادی کا دودھ ختم ہو گیا تھا لیکن اللہ تعالیٰ کی مہربانی سے میر ی دادی کا دودھ مجھ پر رواں ہو گیا اور میں نے اپنی دادی کا دودھ تقریباً ایک سال تک پیا اب اگر ایک نظر سے دیکھا جائے تو میری دادی کے بچے میرے رضاعی بہن بھائی ہوتے ہیں اور ایک نظرسے دیکھا جائے تو وہ میرے چچا اور پھوپھیاں ہوئیں کیا قرآن و سنت کی روشنی میں میرانکاح میری پھوپھی کی بیٹی کے ساتھ ہو سکتا ہے یا نہیں؟

جواب

صورت مسؤلہ میں دادی سے دودھ پینے کی وجہ سے پھوپھی رضاعی بہن اور ان کی بیٹی رضاعی بھانجی بن گئی ہیں اور جس طرح حقیقی بھانجی سے نکاح کرنا جائز نہیں ہے اسی طرح رضاعی بھانجی سے بھی نکاح کرنا جائز نہیں ہے ۔

لما فی ’’الحدیث‘‘ : ۔

وعن عائشۃ رضی اللہ تعالیٰ عنھا قالت قال رسول اللہ ﷺ یحرم من الرضاعۃ ما یحرم من النسب، (مشکوۃ رقم الحدیث ۳۱۶۱)

وفی ’’بدائع الصنائع‘‘ : ۔

اثبت اللہ تعالیٰ الاخوۃ بین بنات المرضعۃ وکذا بنات بناتھا۔ (کتاب الرضاع :۳:۳۲۶)


ماخذ :دار الافتاء جامعہ اشرفیہ لاہور
فتوی نمبر :556


فتوی پرنٹ