1. دار الافتاء جامعہ اشرفیہ لاہور
  2. باب القرأ ۃ

سورۃ فاتحہ میں لفظ مستقیم چھوٹ جانے کی صورت میں نماز کا حکم

سوال

ہماری مسجد میں امام صاحب چھٹی پر تھے ان کے ایک شاگرد نے فجر کی نماز پڑھائی پہلی رکعت میں سورت فاتحہ میں لفظ ’’مستقیم‘‘ چھوڑگئے نمازیوں نے لقمہ نہیں دیا دوسری رکعت میں بھی یہ لفظ چھوڑگئے تو نمازیوں نے لقمہ دیا۔ امام صاحب نے دوبارہ اس لفظ کو پڑھ کر سورت فاتحہ مکمل کی اور سورت ملا کرنماز مکمل کی۔ نماز کے بعد کچھ نمازیوں نے کہا کہ نماز نہیں ہوئی اسلئے کہ لفظ چھوڑنے سے نماز میں حذف آگیا ہے۔ آپ سے درخواست ہے کہ قرآن وسنت کی روشنی میں فرمائیں کہ نماز کے دوبارہ پڑھنے کا اعلان کیا جائے یا نماز ہوگئی ہے۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں نماز صحیح ہوگئی ہے۔ اعادہ کی ضرورت نہیں ہے۔

لما فی الشامیۃ: (۱؍۴۲۶)

ولھا واجبات وھی قراء ۃ فاتحۃ الکتاب فیسجد للسھو بترک اکثرھا لااقلھا۔


ماخذ :دار الافتاء جامعہ اشرفیہ لاہور
فتوی نمبر :574


فتوی پرنٹ