1. دار الافتاء جامعہ اشرفیہ لاہور
  2. باب الربا

قرض لے کر مقروض کو تھوڑے کرایہ پر زمین دینا

سوال

ہمارے علاقہ میں زمین کا عام اجارہ سالانہ ایک جریب (بیگہ) چار ہزار روپے ہیں ایسی صورت میں زید نے عمرو سے بیس ہزار روپے لیے اس رقم کے بدلے اپنی زمین عمرو کو بطور اجارہ دے دی اور فی جریب 200/- روپے سالانہ اجرت طے کر دی حالانکہ معمولی نرخ کے مطابق وہ زمین چار ہزار روپے فی جریب ہے اب زید کے پاس عمرو کی رقم سے دو سو روپے سالانہ کٹتے رہیں گے جو برائے نام ہیں یہ حیلہ اس لیے کیا گیا تاکہ زمین مرہون ہو کر اس کا نفع ربانہ بنے آیا اس طرح حیلہ کرنا جائز ہے؟

جواب

صورت مسٔولہ میں عمرو سے قرضہ وصول کرنے کے بدلہ میں زید نے جو زمین کم اجرت پر بطور کرایہ دی ہے یہ ناجائز ہے فوراً اس معاملہ کو ختم کریں کیونکہ قرض پر مذکورہ رعایت ربا (سود) میں داخل ہے جو ناجائز ہے جیسا کہ ذیل کی عبارات سے واضح ہے۔

عن علی امیر المؤمنین رضی اللّٰہ عنہ مرفوعاً کل قرض جر نفعا فھو ربا (اعلاء السنن / ۱۴ :۵۱۴) عن یزید بن ابی یحيٰ قال : سالت انس بن مالک فقلت : یا ابا حمزۃ الرجل منا یقرض اخاہ المال فیھدی الیہ؟ فقال انس قال رسول اللہ ﷺ اذا قرض احدکم قرضا فاھدی الیہ طبقا فلا یقبلہ او حملہ علی دابۃ فلا یرکبھا الاان یکون بینہ و بینہ قبل ذالک (اعلاء السنن / ۱۴ : ۵۱۵) وان شرط ان یؤجر دارہ باقل من أجرتھا او علی ان یستاجر دار المقرض باکثر من اجرتھا او علی ان یھدی لہ او یعمل لہ عملا کان ابلغ فی التحریم وان فعل ذالک من غیر شرط قبل الوفاء لم یقبلہ ولم یجز قبولہ الا ان یکافئہ او یحبسہ من دینہ الا ان یکون شیئاجرت العادۃ بہ بینھا قبل القرض (اعلاء السنن / ۱۴ :۵۱۳)


ماخذ :دار الافتاء جامعہ اشرفیہ لاہور
فتوی نمبر :547


فتوی پرنٹ