1. دار الافتاء جامعہ اشرفیہ لاہور
  2. باب الربا

افراطِ زر کے اعتبار سے قرض میں اضافہ کا حکم

سوال

کیا افراطِ زر کا اعتبار کرکے قرض کی وصولی کے وقت زیادہ رقم وصول کرنا جائز ہے؟

جواب

عام طور پر بنکوں میں جو رقم جمع کروائی جاتی ہے شرعاً اس کی حیثیت قرض کی ہے اور قرض کی ادائیگی میں شریعت نے مثلیت کا اعتبار کیا ہے قیمت کااعتبار نہیں کیا اس لئے فقط اسی قدر رقم یا جنس لوٹائی جائے گی جس قدر وصول ہوئی ہو، اور افراطِ زر کی بنیاد پر قیمت کا اعتبار کر کے اضافی رقم یا جنس لوٹانا ربا میں داخل ہے جو شرعاً حرام ہے، کیونکہ قرض کا لین دین اور دیون کے معاملات ابتداء سے چلے آرہے ہیں اور یہ بات بالکل بدیہی ہے کہ قیمتوں کا اُتار اور اُبھار ہر زمانے میں رہا ہے، بعض روایات سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اشیاء کے مہنگا ہونے کاثبوت بھی ملتا ہے لیکن کسی سے یہ منقول نہیں ہے کہ دیون کی ادائیگی میں قیمتوں کا اعتبار کیا گیا ہو، لہٰذا ادائیگی اور وصولی کو قیمتوں سے منسلک کرتے ہوئے جو اضافہ دیا جائے گا وہ ربا میں شامل ہوگا۔

لما فی ’’الشامیہ‘‘:

استقرض من الفلوس الرائجۃ والعدالی فکسدت فعلیہ مثلھا کاسدۃ ولا یغرم قیمتھا وکذا کل مایکال ویوزن لما مرانہ مضمون لمثلہ فلاعبرۃ بغلائہ ورخصہ۔(۴/۱۹۲)کتاب القرض رشیدیہ


ماخذ :دار الافتاء جامعہ اشرفیہ لاہور
فتوی نمبر :549


فتوی پرنٹ