1. دار الافتاء جامعہ اشرفیہ لاہور
  2. باب الربا

مقروض کیلئے تفریط زر کی وجہ سے زیادتی کا مطالبہ کرنا

سوال

آج کل افراط زر کے دور میں جبکہ کرنسی کی قیمت میںاتارچڑھاؤ بڑی تیزی سے ہو رہا ہے ایسی صورتحال میں ایک شخص کسی کو 10 روپے ادھار دیتا ہے اس وقت 10 روپے کی 10چاکلیٹ ملتے ہیں جبکہ واپسی کے وقت 10روپے کی قیمت گر کر اب 10روپے کے صرف 8چاکلیٹ ملتے ہیں تواگر واپسی کے وقت ادھار دینے والا اگر 10روپے کے بجائے ساڑھے دس روپے طلب کرے تو کیا یہ جائز ہے؟

جواب

کسی کو قرض دینا اس کے ساتھ احسان کرنا ہے جس کے کرنے یا نہ کرنے کا انسان کواختیار ہوتا ہے لیکن احسان کرنے کی صورت میں اس پر عوض کا مطالبہ کرنا جائز نہیں ہے اور احسان کرنے کی صورت میں عموماً محسن کی طرف سے کوئی نہ کوئی چیز جاتی ہے اس کو اضافہ کے ساتھ ملتی نہیںہے لہٰذا قرض عقد تبرع ہے عقد معاوضہ نہیں ہے قرض دینے والے کو پہلے سے یہ سوچ لینا چاہیے کہ مجھے اس پراضافہ نہیں مل سکتا ہاں بعض اوقات قیمت کم ہو جانے کی صورت میں نقصان ہو سکتاہے اگر اس صورت کے باوجودوہ قرض دینے کے لیے تیار ہو تو قرض دے ورنہ قرض نہ دے۔

لہٰذا ویلیو کم ہونے کی صورت میں جو قرض دینے والے شخص کا نقصان ہوا ہے تو اس کی تلافی کیلئے شرعاً کسی بھی قسم کے اضافہ کا مطالبہ سود میں داخل ہے جو حرام ہے۔


ماخذ :دار الافتاء جامعہ اشرفیہ لاہور
فتوی نمبر :551


فتوی پرنٹ