1. دار الافتاء جامعہ اشرفیہ لاہور
  2. باب الربا

ملازم کو گھر اور پلاٹ خریدنے کیلئے سود پر قرضہ لینا

سوال

میں ایک کمپنی میں کام کرتا ہوں اور میرا کام یہ ہے کہ ملازمین کو مکان کی تعمیر کیلئے پلاٹ اور تعمیر کرانے میں رہنمائی اور مدد کرنا۔ کمپنی ملازمین کو ان کی 75 بنیادی تنخواہوں کے برابر قرضہ دیتی ہے جو کہ 10سال میں120برابر کی اقساط میں 5فیصد کے ساتھ واپس کرنا پڑتا ہے۔ کمپنی رہن کے کاغذات تیار کر کے اصل دستاویزات اپنے پاس رکھتی ہے اور قرضہ ادا ہونے پر اصل دستاویزات واپس کر دئے جاتے ہیں ۔ کیا شرعاً یہ جائز طریقہ کار ہے یا نہیں؟

جواب

سوال میں ذکر کردہ کمپنی کی طرف سے ملازمین کو قرضہ فراہم کرنے کی صورت جس میں ملازم مکان/ پلاٹ خود خریدتا ہے کمپنی صرف قرضہ فراہم کرتی ہے جو ملازم کو 5فیصد اضافہ کے ساتھ واپس کرنا پڑتا ہے یہ سود میں شامل ہے اور جائز نہیں ہے باقی سائل نے جو اپنے متعلق ذکر کیا ہے کہ وہ گاہگ کی پلاٹ اور تعمیر وغیرہ کے سلسلہ میں راہنمائی کا کام انجام دیتا ہے اس کے متعلق سوال میں وضاحت نہیں کی گئی کہ اس کی کیا صورت ہوتی ہے اور اجرت کے تعین کا کیا طریقہ کار ہوتا ہے اس کی مکمل وضاحت معلوم ہونے کے بعد ہی اس کا حکم بتلایا جا سکتا ہے۔

لما فی ’’الشا میۃ‘‘

کل قرض جرنفعا فھو حرام (۵/۲۸۹)


ماخذ :دار الافتاء جامعہ اشرفیہ لاہور
فتوی نمبر :552


فتوی پرنٹ