1. دار الافتاء جامعہ اشرفیہ لاہور
  2. باب الربا

سودی نظام کو سیکھنے کی خاطر سودی بینکوں اور کمپنیوں کے حسابات کی جانچ پڑتال کرنا

سوال

میں یونیورسٹی مینجمنٹ سائنسز کا طالب علم ہوں اورBCSکر رہا ہوں جس میں اکاؤنٹنگ اور فنانس سب سے بڑا مضمون ہے اور یونیورسٹی والے ہمیںتجرباتی علم حاصل کرنے کے لیے بینک اور مختلف سودی کمپنیوں کے حسابات کی پڑتال کیلئے بھیجنا چاہتے ہیں ۔ جو کہ ہمارے سلیبس کا لازمی حصہ ہیں ۔کیا ہمارے لیے سودی حسابات کی پڑتال کرنا صحیح ہے؟

جواب

یونیورسٹی کی طرف سے تربیت اور سودی معاملات کو سمجھنے کی غرض سے طالبعلموں کو مختلف سودی بینکوں یا کمپنیوں میں بھیجا جاتا ہے اس کا مقصد صرف سودی معاملات کو سمجھنا ہوتا ہے باقاعدہ ان اداروں میں ملازمت یا سودی لین دین میں شریک ہونا نہیں ہوتا لہٰذا آپ کے لیے تربیت کی غرض سے سودی اداروں یا کمپنیوں کے حساب کی جانچ پڑتال کیلئے جانا جائز ہے ۔ تاہم اصل مدار نیت پر ہے اگر نیت یہ ہے کہ اس علم کو سیکھ کر سودی نظام کو ختم کر کے اسلامی نظام لائیں گے تو باعث اجر وثواب ہوگا اور اگر یہ نیت ہو کہ سودی نظام ہی کو لے کر کام کریں گے تو پھر اس کو سیکھنے کی غرض سے بھی جانا جائز نہیں ہو گا


ماخذ :دار الافتاء جامعہ اشرفیہ لاہور
فتوی نمبر :553


فتوی پرنٹ