1. دار الافتاء جامعہ اشرفیہ لاہور
  2. باب مفسدات الصلوٰۃ والمکروھات

سامان کو ضائع ہونے سے بچانے کیلئے نماز توڑنے کا حکم

سوال

اگر گھر میں عورت اکیلی ہو اور نماز پڑھ رہی ہو اور کوے گوندھا ہو ا آٹا خراب کرنا شروع کردیں تو کیا نماز توڑ کر کوؤں کو کنٹرول کر سکتی ہے۔

جواب

نماز میں مشغول رہنے کی صورت میں اگر کسی چیز کے ضائع ہونے کا اندیشہ ہو تو اس صورت میں ضابطہ یہ ہے کہ ضائع ہونے والی چیز کی قیمت اگر ایک درہم یعنی 3.402 گرام چاندی کی قیمت کے برابر ہو تو اس کی حفاظت کے لیے نماز توڑ سکتے ہیں اور اگر وہ شے اس سے کم قیمت کی ہو تو اس صورت میں نماز نہ توڑی جائے۔

ویباح قطعھا لنحو قتل حیۃ ونددابۃٍ وفور قدرٍ ومتاع ماقیمتہ درھم لہ اولغیرہ وفی الشامیہ قولہ وفور قدرٍ الظاھرانہ مقید بما بعدہ من فوات ماقیمتہ درھم الخ

(شامیہ ص ۴۸۴، ج ۱)

سوال:اگر گھر میں عورت اکیلی ہو اور نماز پڑھ رہی ہو اور کوے گوندھا ہو ا آٹا خراب کرنا شروع کردیں تو کیا نماز توڑ کر کوؤں کو کنٹرول کر سکتی ہے۔

نماز میں مشغول رہنے کی صورت میں اگر کسی چیز کے ضائع ہونے کا اندیشہ ہو تو اس صورت میں ضابطہ یہ ہے کہ ضائع ہونے والی چیز کی قیمت اگر ایک درہم یعنی 3.402 گرام چاندی کی قیمت کے برابر ہو تو اس کی حفاظت کے لیے نماز توڑ سکتے ہیں اور اگر وہ شے اس سے کم قیمت کی ہو تو اس صورت میں نماز نہ توڑی جائے۔

ویباح قطعھا لنحو قتل حیۃ ونددابۃٍ وفور قدرٍ ومتاع ماقیمتہ درھم لہ اولغیرہ وفی الشامیہ قولہ وفور قدرٍ الظاھرانہ مقید بما بعدہ من فوات ماقیمتہ درھم الخ

(شامیہ ص ۴۸۴، ج ۱)


ماخذ :دار الافتاء جامعہ اشرفیہ لاہور
فتوی نمبر :616


PDF ڈاؤن لوڈ