1. دار الافتاء جامعہ اشرفیہ لاہور
  2. باب مفسدات الصلوٰۃ والمکروھات

زیر ناف اور بغلوں کی صفائی نہ کرنے والے شخص کیلئے نماز وغیرہ پڑھنے کا حکم

سوال

کیا ایسا شخص جوزیر ناف اور بغلوں وغیرہ کے بال نہیں کاٹتا کیا وہ نماز پڑھ سکتا ہے مسجد میں داخل ہو سکتا ہے تلاوت کرسکتا ہے؟

جواب

زیر ناف اوربغلوں کے بال صاف کرنا ایک ایسا حکم ہے جو اسلام کے طہارت و نظافت کے احکام سے تعلق رکھتا ہے اس حکم پر عمل کرنا فطرت سلیمہ کا تقاضا ہے اور ان کی صفائی نہ کرنا خلافِ فطرت ہے کیونکہ مذکورہ مقامات پر یا تو نجاست کا تلوث ہوتا ہے یا صفائی نہ کرنے کی صورت میں میل کچیل اوربدبو کاازالۂ مشکل ہے اور بال کاٹنے کی صورت میں نجاست سے پاکیزگی اورمیل کچیل سے صفائی اچھی طرح ممکن ہوتی ہے۔تاہم مذکورہ بال نہ کٹوانے والا شخص اگرچہ گناہگار ہے لیکن وہ عبادات کی انجام دہی تلاوتِ قرآن اور مسجد میں داخل ہوناوغیرہ امورکو اختیار کر سکتا ہے بشرطیکہ وہ کسی ایسے امر کا مرتکب نہ ہو جس سے مذکورہ کاموں میں سے کوئی کام ممنوع قرارپائے۔


ماخذ :دار الافتاء جامعہ اشرفیہ لاہور
فتوی نمبر :619


PDF ڈاؤن لوڈ