1. دار الافتاء جامعہ اشرفیہ لاہور
  2. کتاب الایمان والعقائد

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق نازیبا کلمات کا شرعی حکم

سوال

ایک شخص کہتا ہے کہ جتنے زن مرید نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم تھے اتنا اور کوئی نہ تھا ا س کے متعلق شرعی حکم کیا ہے؟ کیا ایسا شخص امامت کروا سکتا ہے؟

جواب

بشرط صحت سوال مذکورہ کلمات توہین رسالت کے زمرہ میں نہیں آتے اگرچہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شانِ اقدس کے مناسب نہیں تاہم ان کلمات کے کہنے سے مذکورہ شخص کافر نہ ہوگا کیونکہ ’’زن مرید‘‘ کے کلمات میں متعدد احتمالات ہیں جیسا کہ عورت سے محبت کرنے والا عورت کے ساتھ نرمی کرنے والا وغیرہ۔

)السابعۃ( مافی البحر من باب المرتد نقلا عن الفتاویٰ الصغری الکفر شئی عظیم۔ فلا اجعل المؤمن کافر امتی وجدت روایۃ انہ لایکفر انتھی ثم قال والذی تحرر انہ لایفتی بکفر مسلم امکن حمل کلامہ علی محمل حسن اوکان فی کفرہ اختلاف ولو روایۃ ضعیفۃ۔ )شرح عقود رسم المفتی ص ۲۹(

البتہ ایسے شخص کو ان کلمات سے توبہ و استغفار اور آئندہ ان کلمات کے استعمال کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے کیونکہ یہ کلمات اگرچہ موجب توہین نہیں موہم توہین ضرور ہیں۔ مذکورہ شخص توبہ کرنے کے بعد امامت کروا سکتا ہے۔


ماخذ :دار الافتاء جامعہ اشرفیہ لاہور
فتوی نمبر :646


فتوی پرنٹ