1. دار الافتاء جامعہ اشرفیہ لاہور
  2. کتاب الایمان والعقائد

حنفی کیلئے ایک مذہب کو چھوڑ کر دوسرا مذہب اختیار کرنا جائز ہے؟

سوال

خانہ کعبہ کے امام کا مذہب چونکہ مالکی، حنبلی ہے تو کیا میں ان کے مذہب کو اختیار کر سکتا ہوں اس لیے کہ مجھے یہ پسند ہے کہ میرا مذہب بھی خانہ کعبہ کے امام کی طرح ہو؟

جواب

دلائل کی قوت اور کسی غرض محمود کی وجہ سے ایک مذہب کو چھوڑ کر دوسرے مذہب کو اختیار کیا جا سکتا ہے لیکن ایک عام شخص قوت دلائل کا فیصلہ اور غرض صحیح کا تعین نہیں کر سکتا نیز چونکہ چاروں آئمہ کرام میں سے کسی کی بھی تقلید کر لینا باعث نجات ہے اس لیے عامی کے لیے عافیت کا راستہ یہی ہے کہ وہ جس مذہب کے مطابق چل رہا ہے اسی کو پکڑے رکھے اس کے لیے یہ جائز نہیں کہ جس کی طرف طبیعت کا میلان ہوا اسی مذہب کو اختیار کر لے۔

ارتحل الی مذہب الشافعی یعزر وفی الشامیہ ای اذا کان ارتحالاً لالغرضٍ محمودٍ شرعاً ...... لوان رجلاً بریٔ مذہبہ با جتھاد وضح لہ کان محمودًا ماجوراً اما انتقال غیرہ من غیر دلیلٍ بل لما یرغب من غرض الدنیا وشھوتھا فھوالمذموم الاثم المستوجب للتادیب والتعزیر لارتکابہ المنکر فی الدین واستخفافہ لدینہ و مذہبہ ...... یطلقون تلک العبارات با لمنع من الانتقال خوفاً من التلاعب بمذاہب المجتھدین نفعنا اللہ تعالٰی بھم واماتنا علی حبھم آمین یدل لذلک مافی القنیہ رامزاً لبعض کتب المذہب لیس للعامی ان یتحول من مذہبٍ الی مذہب ویستوی فیہ الحنفی والشافعی )شامیہ ص ۲۰۹ ، ج ۳(



وقیل لمن انتقل الی مذہب الشافعی لیزوّج لہ اخاف ان یموت مسلوب الایمان لاھانتہ للدین للجیف ۃ القذرۃ ........ وان انتقل الیہ لقلۃ مبالاتہ فی الاعتقاد وال ج رأۃ علی الانتقال من مذہب الی مذہب کما یتفق لہ ویمیل طبعہ الیہ لغرضٍ یحصل فانہ لاتقبل شھادتہ )شامیہ ص ۴۲۵، ج ۵(


ماخذ :دار الافتاء جامعہ اشرفیہ لاہور
فتوی نمبر :648


فتوی پرنٹ