1. دار الافتاء جامعہ اشرفیہ لاہور
  2. کتاب الایمان والعقائد

کسی ولی کے قبر سے اٹھ کر جانے یا قبر میں حالات معلوم ہونے کے عقیدہ کا حکم

سوال

کیا یہ عقیدہ رکھنا درست ہے کہ کسی نبی یا ولی کو قبر میں کبھی باہر کے حالات کا علم ہو جاتا ہے اور وہ کبھی باہر بھی آتے ہیں جو آدمی یہ عقیدہ رکھے اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟

جواب

کسی نبی یا ولی کے بارے میں یہ عقیدہ رکھنا درست نہیں کہ وہ غیب کا علم رکھتا ہے اور اگر کبھی اللہ تعالیٰ کسی واسطے سے کسی بندے کو کسی غیب کی بات کا علم عطا کر دے تو اس سے اس کا عالم الغیب ہونا لازم نہیں آتا نیز کسی مردہ شخص کے بارے میں یہ عقیدہ رکھنا بھی غلط ہے کہ اس کو یہ صلاحیت حاصل ہے کہ وہ جب چاہے اٹھ کر کہیں جا سکتا ہے البتہ اگر کبھی اللہ تعالیٰ کی مشیت سے کوئی ایسا واقعہ پیش آجائے تو اس کا انکار کرنا بھی ضروری نہیں ہے لیکن اس طرح کے واقعات کو کتب میں اس طرح لکھنا کہ جس سے عوام کے عقائد کے خراب ہونے کا اندیشہ ہو جائز نہیں اس سے احتراز ضروری ہے۔

لما فی ’’الشامیۃ:۔



ان ادعاء ظن الغیب حرام لا کفر )۳/۱۶۹(



وفیہ ایضاً : ان من جملۃ کرامات الاولیاء الاطلاع علی بعض المغیبات الخ )۳ /۳۰۰(


ماخذ :دار الافتاء جامعہ اشرفیہ لاہور
فتوی نمبر :651


فتوی پرنٹ