1. دار الافتاء جامعہ اشرفیہ لاہور
  2. باب صفۃ الصلوٰۃ

عورت اور مرد کی نماز میں فرق

سوال

عورت اور مرد کی نماز میں فرق کس دلیل سے ثابت ہے؟

جواب

چاروں آئمہ کے ہاں مرد و عورت کی نماز میں فرق ہے کیونکہ عورت کے لیے نماز میں بھی ستر کا لحاظ رکھنا ضروری ہے علمائے احناف میں سے صاحب ھدایہ فرماتے ہیں کہ عورت ہاتھ کندھوں تک اُٹھائے یہ اس کے لیے زیادہ ستر کا باعث ہے۔

امام شافعی کتاب الام میں تحریر فرماتے ہیں کہ عورت کے لیے پسندیدہ یہی ہے کہ سمٹ کر سجدہ کرے کیونکہ یہ زیادہ باعث ستر ہے اور ساری نماز میں ستر کا اہتمام کرے۔

مالکیہ میں سے ابو زید قیروانی نے ’’الرسالہ ‘‘میں صراحت فرمائی ہے کہ ابن زیاد کی روایت جو صحیح ہے یہی ہے کہ امام مالک نے فرمایا کہ عورت سمٹ کر سجدہ کرے۔ حنابلہ کی معتبر کتاب’’ المغنی لابن قدامہ ‘‘میں بھی اس فرق کی صراحت موجود ہے۔

مولانا عبدالحئی صاحب تحریر فرماتے ہیں کہ:

وأما فی حق النسآء فاتفقوا علی ان السنۃ لھن وضع الیدین علی الصدر۔

(السعایۃ ص ۱۵۶، ج ۲)

عن ابن عمرؓ مرفوعاً اذا جلست المرأۃ فی الصلوۃ وضعت فخذھا علی فخذھا الاخری فاذا سجدت الصقت بطنھا علی فخذھا کا ستر مایکون فان اللہ تعالی ینظر الیھا بقول یا ملائکتی اشھد کم انی قد غفرت لھا

یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

عورت جب نماز میں بیٹھے تو دا ہنی ران بائیں ران پر رکھے اور جب سجدہ کرے تو اپنا پیٹ اپنی رانوں کے ساتھ ملا لے جو زیادہ ستر کی حالت ہے اللہ تعالیٰ اسے دیکھ کر فرماتے ہیں کہ اے فرشتو گواہ ہو جائو میں نے اس عورت کو بخش دیا۔

اسی طرح امام ابودائود اپنی مراسیل میں نقل فرماتے ہیں کہ:

عن یزید بن ابی حبیب ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مرعلی امرأتین تصلیان فقال اذا سجدتما فضما بعض اللحم الی الارض فان المرأۃ لیست فی ذلک کالرجل (مراسیل ابی دائود ص ۹)

اس میں بھی صراحت موجود ہے کہ عورت اس معاملہ میں مرد کی طرح نہیں ہے اس لیے عورت کی نمازکو مرد کی نماز کی طرح قرار دینا درست نہیں ہے۔


ماخذ :دار الافتاء جامعہ اشرفیہ لاہور
فتوی نمبر :595


فتوی پرنٹ