1. دار الافتاء جامعہ اشرفیہ لاہور
  2. باب صفۃ الصلوٰۃ

کرسی پر بیٹھ کر نماز کا شرعی حکم

سوال

کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھنے کے بارے میں فتویٰ درکار ہے؟

جواب

جو شخص کسی مرض کی وجہ سے رکوع، سجدہ پر قادر نہ ہو تو اس کے لیے نماز پڑھنے کی دو صورتیں ہیں۔

(۱) کھڑے ہو کر نماز پڑھے اور رکوع، سجدہ اشارے سے کرے۔ (۲) بیٹھ کر نماز پڑھے اور رکوع، سجدہ اشارے سے کرے، اگرچہ وہ قیام یعنی کھڑے ہونے پر قادر ہو، کیونکہ جو شخص رکوع، سجدہ نہیں کر سکتا اس سے قیام بھی ساقط ہو جاتا ہے چنانچہ علامہ حلبیؒ فرماتے ہیں:

وان قدر علی القیام دون الرکوع والسجود ای کان بحیث لوقام لایقدر أن یرکع ویسجد لم یلزمہ القیام۔ (کبیری ۲۶۲ وکذافی الھدایۃ ۱۶۲ والبدائع ۱/۱۰۶)

اور اگر رکوع، سجدہ کر سکتا ہے لیکن کھڑے رہنے سے بہت زیادہ تکلیف یا مرض بڑھ جانے کا اندیشہ ہو تو جتنی دیر کھڑا ہونا ضروری ہے حتی کہ اگر صرف تکبیر تحریمہ کی مقدار کھڑا ہو سکتا ہے تو اتنی دیر کھڑا ہونا بھی ضروری ہے اسی طرح اگر لاٹھی وغیرہ سے ٹیک لگا کر یا خادم کے سہارے کھڑا ہو سکتا ہے (اگر خادم ہو) تو بھی کھڑا ہونا واجب ہے۔

قال الحلبیؒ: ولو قدر علیہ متکئا علی عصا او خادم قال الحلوانی الصحیح انہ یلزمہ القیام ولو قدر علی بعض القیام لا کلہ لزمہ ذلک القدر حتی لوکان لایقدر الا علی قدر التحریمۃ لزمہ أن یتحرم قائما ثم یقعد۔

(کبیری ۲۵۹، وکذافی الفتح ۱/۴۵۷)

اب جو شخص رکوع، سجدہ پر قادر ہے اس کے لیے کرسی پر نماز پڑھنا کسی صورت میں جائز نہیں کیونکہ ایسے شخص کو زمین پر رکوع، سجدہ کرنا فرض ہے اگرچہ کرسی کے آگے سجدہ کی جگہ بنی ہو کیونکہ عموماً کرسی کے آگے بنی سجدہ کی جگہ پائوں کی جگہ سے بارہ انگلیوں (چوڑائی کے اعتبار سے) کی مقدار سے زیادہ بلند ہوتی ہے اور اس طرح نماز درست نہیں ہوتی، نیز اس صورت میں گھٹنے بھی زمین پر نہیں لگتے جن کا زمین پر رکھنا راحج قول کے مطابق واجب ہے۔

قال الحلبیؒ: ولو کان موضع السجود ارفع ای اعلی من موضع القدمین ان کان ارتفاعہ مقدار ارتفاع لبنتین منصوبتین جاز السجود علیہ والا أی وان لم یکن ارتفاعہ مقدار لبنتین بل کان ازید فلا یجوز السجود واراد باللبنۃ فی قولہ مقدار لبنتین لبنۃ بخاری، وھی ربع ذراع عرض ست أصابع فمقدار ارتفاع اللبنتین المنصوبتین نصف ذراع طول اثنتی عشرۃ اصبعًا۔ (کبیری ۲۸۱)

وقال ابن عابدینؒ: (قولہ واضعًار کبتیہ ثم یدیہ) قدمنا الخلاف فی أنہ سنۃ أو فرض أو واجب وأن الأخیر أعدل الأقوال وھو اختیار الکمالؒ۔ (ردالمختار ۱/۴۹۷)

اور جو شخص رکوع، سجدہ پر قادر نہ ہو البتہ زمین پر بیٹھ سکتا ہو اس کی نماز کرسی پر خلافِ سنت ہونے کی وجہ سے کراہت سے خالی نہیں، اور جو شخص زمین پر بھی نہیں بیٹھ سکتا اس کی نماز کرسی پر بلا کراہت جائز ہے۔


ماخذ :دار الافتاء جامعہ اشرفیہ لاہور
فتوی نمبر :598


فتوی پرنٹ