1. دار الافتاء جامعہ اشرفیہ لاہور
  2. باب مفسدات الصلوٰۃ والمکروھات

امام سے آگے بڑھنے کی صورت میں نماز کا حکم

سوال

اگر کوئی شخص اما م سے آگے بڑھ جائے تو کیا اس کی نماز ہو جائے گی؟

جواب

حالتِ نماز میں امام سے آگے بڑھنا سخت گناہ ہے البتہ جہاں تک امام سے آگے بڑھنے کی وجہ سے نماز کا حکم ہے تو اگر معمولی آگے بڑھا ہو اور پھر امام کے ساتھ رُکن میں مل گیا ہو تو گناہ تو ہوگا مگر نماز نہیں ٹوٹے گی لیکن اگر امام سے آگے اس انداز میں بڑھا کہ جس کی وجہ سے وہ رکن امام کے ساتھ بالکل (ایک تسبیح کی مقدار بھی) ادا نہیں ہوا تو اس صورت ثانیہ میں نماز نہ ہوگی۔ اور واجب الاعادہ رہے گی۔

عن ابی ھریرۃ ؓ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال:

’’اما یخشی احدکم اولا یخشی احدکم اذا رفع رأسہ قبل الامام ان یجعل اللہ رأسہ رأس الحمار اویجعل اللہ صورتہ صورۃ حمار‘‘۔

(رواہ البخاری، کتاب الاذان رقم ۶۵۰، ومسلم کتاب الصلاۃ ۶۴۷، والترمذی کتاب الجمعۃ عن رسول اللہ رقم ۵۳۱)

(ویفسدھا مسابقۃ المقتدی برکن لم یشارکہ فیہ امامہ) کمالو رکع ورفع راسہ قبل الامام ولم یعدہ معہ او بعدہٗ (مراقی الفلاح مع طحطاوی، باب مایفسد الصلاۃ ص ۱۸۵)

وتقدیم مقتدی از امام در ارکان حرام است۔(مالابد منہ ص ۳۹)


ماخذ :دار الافتاء جامعہ اشرفیہ لاہور
فتوی نمبر :615


PDF ڈاؤن لوڈ