1. دار الافتاء جامعہ اشرفیہ لاہور
  2. کتاب الایمان والعقائد

کیاگناہ گار مسلمان قرآن پاک کی روسے مکذبین میں داخل ہیں

سوال

جو مسلمان اللہ تعالیٰ کے فرمان پر یقین تو کرتے ہیں لیکن اپنی سستی اور لاپرواہی کے باعث اس پر عمل درآمد نہیں کرتے تو کیا یہ لوگ مکذبون کی زد میں آتے ہیں۔اگر ایسا ہے تو پھر تو مسلمانوں کو انگلیوں پر گناجا سکتا ہے۔

جواب

قرآن کریم میں جن لوگوں کو کافر یا مکذب کہا گیا ہے ان سے مراد وہ لوگ ہیں جو احکام الٰہی کا سرے سے انکار کرتے ہیں اور آیات کی تکذیب کرتے ہیں، مگر وہ مسلمان جو احکام الٰہی کا انکار اور آیات کی تکذیب نہیں کرتے البتہ بے عملی کی زندگی گزارتے ہیں، ایسے حضرات اگر چہ گناہگار تو ہیں لیکن وہ کافر اور مکذب کے تحت داخل نہیں، متعدد احادیث مبارکہ میں یہ بات منقول ہے کہ کچھ صاحب ایمان لوگوں کوبھی اُن کے بُرے اعمال کی سزا دے کر جہنم سے نکال لیا جائے گا، اور ان کو جنت میں بھیج دیا جائے گا، ان کو ایمان ہی کی وجہ سے جہنم سے نکال کر جنت میں بھیجا جائے گا، اس لئے بے عمل مسلمان کو کافر یا مکذب نہیں کہا جاسکتا ہاں وہ فاسق ضرورہے اگر وہ بے عملی سے باز نہیں آتا۔

عن انس عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال یخرج من النار من قال لا الہ الا اللہ وفی قلبہ وزن شعیرۃ من الایمان (بخاری شریف :۴۴)

عن انس عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال یخرج من النار من قال لا الہ الا اللہ وفی قلبہ وزن شعیرۃ من الایمان )بخاری شریف :۴۴(


ماخذ :دار الافتاء جامعہ اشرفیہ لاہور
فتوی نمبر :657


فتوی پرنٹ