1. دار الافتاء جامعہ اشرفیہ لاہور
  2. کتاب الایمان والعقائد

اسلام کی آفاقیت

سوال

اسلام کی آفاقیت سے کیا مراد ہے؟

جواب

اسلام ایک ’’آفاقی دین ‘‘ ہے۔ اس جملہ کا معنی و مفہوم یہ ہے کہ دینِ اسلام صرف کسی مخصوص وقت، کسی مخصوص جگہ و علاقہ، یا کسی مخصوص انسانی گروہ کے لئے نہیں ہے بلکہ یہ عالمگیر دین ہے جو آنحضرت ا کی بعثت ِ مبارکہ سے لیکر قیامت تک تمام انسانوں ، تمام زمانوں اور تمام خطۂ زمین کے لئے واحد راہِ نجات ہے۔ جس میں ماں کی گود سے لے کر قبر کی گود تک، اور بیت اللہ سے بیت الخلاء تک کی زندگی کے تمام تر مسائل کا حل موجودہے۔ چنانچہ اسلام کی تعلیمات عقائد، عبادات، معاشرت، معاملات، اخلاقیات، سیاست و اقتصادیات وغیرہ تمام شعبہ ہائے زندگی پر محیط ہیں۔

)۱( قل یاایھا الناس انی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لیکم جمیعا )الایۃ الاعراف ۷؍۳۸(



)۲( تبارک الذی نزّل الفرقان علی عبدہ لیکون للعٰلمین نذیراً )الفرقان؍۱(



)۳( ان الدین عند اللہ الاسلام )الایۃ آل عمران ۳؍۱۹(



)۴( الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام دینا۔ )المائدہ؍۳(


ماخذ :دار الافتاء جامعہ اشرفیہ لاہور
فتوی نمبر :658


فتوی پرنٹ