1. دار الافتاء جامعہ اشرفیہ لاہور
  2. کتاب الایمان والعقائد

قیامت تک اسلام ہی معتبر دین ہے

سوال

موجودہ زمانہ میں کون سا دین برحق ہے اور کیا دین اسلام کی حقانیت کو ثابت کرنا اہل اسلام کیلئے ضروری ہے؟

جواب

خداکے نزدیک دین معتبر فقط اسلام ہے آج اسلام کے علاوہ کوئی بھی دین اللہ کے ہاں قابل قبول نہیں ہے قرآن کریم کی متعدد آیات اور مختلف روایات میں اس مضمون کو کھلے لفظوں میں واضح طور پر بیان کیا گیا ہے۔

ارشاد ربانی ہے۔

ان الدین عنداللّٰہ الاسلام (اٰل عمران:۲۰)

خدا کے نزدیک دین معتبر فقط اسلام ہے۔

اور ارشاد باری تعالیٰ ہے۔

ومن یبتغ غیر الاسلام دینا فلن یقبل منہ وھو فی الاخرۃ من الخٰسرین

(اٰل عمران : ۸۵)

اسلام کے علاوہ جو کوئی دوسرا دین لے کر آئے گا تو وہ اس سے ہر گز قبول نہ کیا جائے گا اور وہ آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو گا۔

ارشاد ربانی ہے:

یا ایھا الذین امنو ادخلوا فی السلم کافۃ ولا تتبعوا خطوات الشیطن انہ لکم عدوٌ مبین (البقرۃ:۲۰۸)

اے ایمان والو اسلام میں پورے کے پورے داخل ہو جاؤ اور شیطان کے قدموں کے پیچھے مت چلو بے شک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔

مذکورہ بالا آیات سے یہ بات واضح ہے اسلام اور کفر کا فرق خدا کے ہاں تمام نبیوں کے ہاں اور آخری ملت اسلام کے طریقہ میں بھی موجود ہے اسلام حق ہے اور کفر باطل ہے یہ دونوں کبھی اکھٹے نہیں ہو سکتے اہل حق پر لازم ہے کہ وہ دلائل حق کو واضح طور پر بیان کرتے رہیں اور دنیا کو دعوت حق دیتے رہیں ہاں دعوت میں حکمت و بصیرت کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے کسی کو خواہ مخواہ برابھلا کہنا اور مذاہب اوراہل مذاہب کو گالیاں نکالنا کسی کے ہاں بھی پسندیدہ عمل نہیں ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ حق و باطل کی کشمکش شروع سے ہے اور آخر تک رہے گی اس میں اہل حق کو سکوت و خاموشی کا مشورہ دینا کہ وہ دلائل حق کو بھی نہ بیان کریں یہ’’ مداہنت فی الدین ‘‘ہے جس سے منع کیا گیا ہے ہاں مناسب انداز اور حکمت و بصیرت کے طریقہ سے حق کا دفاع صاحبِ ایمان کافریضہ ہے۔


ماخذ :دار الافتاء جامعہ اشرفیہ لاہور
فتوی نمبر :659


فتوی پرنٹ