1. دار الافتاء جامعہ اشرفیہ لاہور
  2. کتاب السنۃ والبدعۃ

سنن و نوافل کے بعد اجتماعی دعا

سوال

سنن و نوافل کے بعد امام اور مقتدی اجتماعی دعا بالجہر کرتے ہیں اور نہ کرنے والوں کو قسم قسم کے خطابات سے پکارتے ہیں مثلاً پنج پیری وغیرہ۔ اس کی شرعی حیثیت واضح فرمائیں۔

جواب

سنتوں سے فارغ ہونے کے بعد امام اور مقتدیوں کا اجتماعی صورت میں دعا مانگنا حضور ا سے ثابت ہے نہ صحابہ ؓ و تابعینؒ سے اورنہ آئمہ دینؒ سے، جو چیز سنت سے ثابت نہ ہو اس کو بطریق سنت پابندی اور التزام کے ساتھ بجماعت ادا کرنا خود ایک بدعت ہے، اس اجتماعی دعا میں اس کے علاوہ دوسرا مفسدہ یہ بھی ہے کہ بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ جیسے نمازوں کے بعد سنت مؤکدہ ضروری ہیں ان کے بغیر نماز کی تکمیل نہیں ہوتی اسی طرح سنتوں کے بعد اجتماعی دعا بھی نماز کی تکمیل کیلئے ضروری ہے نیز جماعت میں شریک ہونے والا آدمی جب یہ دیکھتا ہے کہ جماعت سے نماز پڑھنے میں آدھا گھنٹہ خرچ ہو جائے گا اور اس کو اتنی فرصت کہاں تو وہ سرے سے جماعت ہی چھوڑ بیٹھتا ہے اور پھر یہ دعا بلند آواز سے کرتے ہیں جس کی وجہ سے بعد میں آنے والے نمازیوں کی نمازوں میں خلل واقع ہوتا ہے لہٰذا مندرجہ بالا مفاسد کی بناء پر سنتوں کے بعد اجتماعی دُعا ء سے بچنا لازم ہے۔

(مأخذہ احکام دعاء ص:۱۴،۱۵)


ماخذ :دار الافتاء جامعہ اشرفیہ لاہور
فتوی نمبر :829


فتوی پرنٹ