1. دار الافتاء جامعہ اشرفیہ لاہور
  2. کتاب السنۃ والبدعۃ

پیر کے دن حضورؐ کے روزہ رکھنے کے معمول کو عید میلادالنبی کی دلیل بنانا

سوال

ایک عالم نے کہا مروجہ عید میلاد النبی بدعت ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ پیر کے دن کو منایا اور اس دن روزہ رکھا کیونکہ یہ ان کا یوم ولادت تھا یوم ہجرت تھا اور یوم نبوت تھا۔

جواب

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ تھی کہ آپ پیر کو اور جمعرات کو روزہ رکھا کرتے تھے لیکن اس عادت مبارکہ سے عید میلاد النبی کے ثبوت پر استدلال کرنا قطعاً درست نہیں ہے۔ قطع نظر اس بات سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ یہ روزہ کس لیے رکھا کرتے تھے روزے کا عید کے منافی ہونا بالکل ظاہر ہے اس لیے کہ عید کے دن روزہ نہیں رکھا جاتا اور اگر بالفرض آپ کی بات مان بھی لی جائے تب بھی اس سے صرف اتنی بات ثابت ہوتی ہے کہ آپ علیہ السلام نے پیر کو روزے کے ساتھ گذارا ہے تو اس سے کوئی بھی منع نہیں کرتا بلکہ ہر پیر اور جمعرات کو روزہ رکھنا آپ علیہ السلام کے اس عمل کی اتباع کی وجہ سے بہت بڑی سعادت ہے اور پیر کی ربیع الاول کے ساتھ کوئی تخصیص نہیں ہر پیر اور جمعرات کو روزہ رکھ سکتے ہیں۔


ماخذ :دار الافتاء جامعہ اشرفیہ لاہور
فتوی نمبر :830


فتوی پرنٹ