1. دار الافتاء جامعہ اشرفیہ لاہور
  2. کتاب السنۃ والبدعۃ

بزرگان دین کی قبور پر دعا کے لئے جانا

سوال

بزرگان دین کی قبر پر جاکر دعا کرنا اور یہ عقیدہ رکھنا کہ بزرگوں کی قبروں پر دعا جلدی قبول ہوتی ہے کیا درست ہے؟

جواب

بزرگان دین کی قبور پر اس غرض سے جانا چاہئے کہ اس سے موت اور آخرت کی یاد تازہ ہوتی ہے۔ حدیث میں زیارت قبور کی اصل وجہ یہی بتائی گئی ہے اور جہاں اللہ کے برگزیدہ بندے رہتے ہیں وہاں خُدا کی رحمت متوجہ رہتی ہے اس لئے وہاں جا کر اگر اللہ تعالیٰ سے دعا کر لی جائے تو کوئی حرج کی بات نہیں اور قبولیت کی اُمید ہے جیسا کہ مسجد اور دیگر متبرک مقامات پر قبولیت دُعا کی زیادہ اُمید ہوتی ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ وہاں دُعا ضرورہی قبول ہوگی اور رد نہیں ہو سکتی اور نہ یہ بات کہنا ٹھیک ہے کہ بزرگوں کی قبروں پر دعائوں کو قبول کروانے کے لئے ہی جایا جائے۔

لما فی ’’الشامیہ‘‘ :

(قولہ وب زری اۃ القبور) ای لا بأس بھا بل یندب کما فی البحر الخ (۱/۶۶۵) رشیدیہ


ماخذ :دار الافتاء جامعہ اشرفیہ لاہور
فتوی نمبر :831


فتوی پرنٹ