1. دار الافتاء جامعہ اشرفیہ لاہور
  2. کتاب الشرکۃ والمضاربۃ

مشترکہ کاروبار کی تقسیم

سوال

پانچ بھائی ہیں جن کے نام درج ذیل ہیں ۔ ۱۔سعید، ۲۔ حنیف، ۳۔ عمر فاروق، ۴۔ اسلام، ۵۔شکیل: سب کا کاروبارمشترک ہے البتہ سعید اور حنیف کا کام علیحدہ علیحدہ ہے اب ان میں جائیداد کی تقسیم کس طرح ہو گی؟

جواب

آمدنی اور اخرجات میں چند افراد شریک ہوں اور ایک دوسرے کی آمدنی ممتاز نہ ہو تو تقسیم کے وقت سب برابر کے شریک ہوتے ہیں البتہ اگر آمدنی جدا جدا ہو تو ہر ایک شخص علیحدہ اپنی چیز کا مالک ہوتا ہے اور یہ بھی یاد رہے کہ مشترکہ کام میں سب افراد کا عملاً شریک ہونا ضروری نہیں ہے لہذا صورت مسؤلہ میں پانچ بھائیوں میں سے دو بھائی سعید اور حنیف کاکام علیحدہ علیحدہ ہے باقی تین بھائیوں کا کام مشترکہ تھا جیسا کہ تحریر سے واضح ہے اور آمدن بھی سب کی ملی جلی تھی اس لیے یہ تینوں بھائی جائیداد میں برابر کے شریک ہیں البتہ اگر ان میں سے کسی نے خالصتاً اپنی ذاتی کمائی سے کوئی چیز بنائی ہے تو وہ اس کی ہی سمجھی جائے گی اور اس میں دوسرے بھائیوں کا حق نہیں ہو گا ۔

لمافی’’تنقیح الحامدیہ‘‘: ۔

سئل فی اخوہ خمسۃ سعیھم وکسبھم و احدوعاملتھم واحدۃ حصلوا بسعیھم وکسبھم اموالا فھل تکون الاموال المذکورہ مشترکۃ بینھم احماسا(الجواب) ما حصلہ الاخوۃ الخمسۃ بسعیھم وکسبھم یکون بینھم أخماسا۔ (۱/ ۹۵)رشیدیہ

وفی ’’الشامیۃ‘‘ : ۔

والحاصل من اجر عمل احدھما بینھما علی الشرط ولو الاٰخر مریضا او مسافرا او امتنع عملا بلا عذر لان الشرط مطلق العمل لا عمل القابل ای لا فرق بین ان یعملا ویعمل احدھما سواء ۔ الخ۔ (۴/ ۳۲۳) سعید


ماخذ :دار الافتاء جامعہ اشرفیہ لاہور
فتوی نمبر :834


فتوی پرنٹ