1. دار الافتاء جامعہ اشرفیہ لاہور
  2. کتاب الشرکۃ والمضاربۃ

مشترکہ کاروبار میں نقصان کا حکم

سوال

مشترکہ کاروبار میں اگر نقصان ہو جائے اس کو کس کے کھاتے میں ڈالا جائے او راسی طرح جو کاروبار میں شریک افراد کا وکیل ہو وہ بھی نقصان میں شامل ہو گا یا نہیں؟

جواب

مشترکہ کاروبار میں اگر خسارہ ہو تو شرکاء کا نقصان ان کے اصل سرمایہ (جتنا سرمایہ کاروبار میں لگایا ہے) کے بقدر ہوتا ہے یعنی جس کا جتنا فیصد سرمایہ ہے اس کا نقصان بھی اتنا ہی ہو گا وکیل سے نقصان کا مطالبہ کرنا شرعا ً درست نہیں ہے۔

لہٰذا صورت مسئولہ میں نقصان کو ایجنٹ پر عائد کرنا جائز نہیں ہے البتہ اگر ایجنٹ سے معاملہ کرتے وقت کسی قسم کا معاہدہ کیا تھا یاا یجنٹ خود کاروبار میں شریک تھا اس صورت میں حکم مختلف ہو گا اس کی تفصیل بتلا کر دوبارہ مسئلہ معلوم کیا جا سکتا ہے۔

وفی ’’فتاویٰ السراجیۃ‘‘ ۔ (۸۵)

فالربح بینھما علی الشرط والوضعیۃ بینھما علی قدر رؤس اموالھا،

وفی ’’درر الحکام‘‘ : ۔

یلزم الوکیل الضمان فی الخصومات التی یلزم الضمان فیھا الودیع ویبرأ الوکیل من الضمان فی الخصومات التی یبرأ فیھا المستودع (۱/۵۸۲)


ماخذ :دار الافتاء جامعہ اشرفیہ لاہور
فتوی نمبر :835


فتوی پرنٹ