1. دار الافتاء جامعہ اشرفیہ لاہور
  2. کتاب الطھارۃ

مصنوعی دانتوں کی صورت میں غسل اور وضو کا حکم

سوال

کیا وضو یا غسل کے وقت مصنوعی دانتوں کو نکال کر منہ دھونا ضروری ہے یا ان کو نکالے بغیر بھی وضو اور غسل درست ہو جاتا ہے؟

جواب

مصنوعی دانت دو طرح کے ہوتے ہیں ایک وہ جو مستقل طور پر منہ میں لگا دیئے جاتے ہیں اور ان کو آسانی سے نکالنا ممکن نہیں ہوتا دوسرے اس طرح کے ہوتے ہیں کہ ان کو حسب ضرورت استعمال کر کے منہ سے بآسانی نکال سکتے ہیں پہلی قسم کے مصنوعی دانت یعنی جو مستقل طور پرمنہ میں لگا دیئے جاتے ہیں یہ اصل دانت کا درجہ رکھتے ہیں ان کا حکم بھی اصل دانتوں ہی کی طرح ہے یعنی وضو میں ان دانتوں تک پانی پہنچانا مسنون اور غسل میں فرض ہو گا دانت نکالنے اور تہہ تک پانی پہنچانے کی ضرورت نہیں ہے۔ البتہ دوسری قسم کے مصنوعی دانت کی حیثیت ایک زائد چیز کی ہوگی اور اگر پانی نیچے نہ پہنچتا ہو تو غسل کے صحیح ہونے کیلئے اس کو نکال کر اصل جسم تک پانی پہنچاناضروری ہو گا اور وضو میں بھی ان کو نکالے بغیر کلی کرنے سے سنت ادا نہیں ہوگی۔

لما فی ’’بدائع الصنائع‘‘(۱/ ۱۴۲):-

واسم البدن یقع علی الظاہر والباطن فیحبب تطھیر یمکن تطھیرہ منہ بلا حرج

وفی ’’الدر المختار‘‘ (۱/ ۱۵۴)

ولا یمنع ما علی ظفر صباع ولا طعام بین اسنانہ او فی سنہ المجوف بہ یفتی و قبل ان صلبا منع وھو الاصح- قولہ وھو الاصح صرح بہ فی شرح المنیہ وقال لامتناع نفوذ الماء مع عدم الضرورۃ والحرج ۔


ماخذ :دار الافتاء جامعہ اشرفیہ لاہور
فتوی نمبر :878


PDF ڈاؤن لوڈ