مہر میں دئیے گئے زیورات کس کی ملکیت ہوتے ہیں

سوال کا متن:

شادی میں لڑکی کو جو زیور اس کے ماں باپ کی طرف دیا جاتا ہے شادی کے بعداس مال کا شرعا ً مالک کون ہے؟

جواب کا متن:

جو چیز کسی کو ہدیہ کے طور پر دی جاتی ہے۔ قبضہ کرنے کے بعد وہ شخص اس کا مالک بن جاتا ہے۔ کوئی بھی شخص اس کی اجازت کے بغیر اس میں تصرّف کرنے کا مجاز نہیں ہوتا۔ لڑکی کو جو جہیز ، زیور والدین کی طرف سے دیا جاتا ہے۔ وہ عموماً لڑکی کو مالک بنا کر ہی دیا جاتا ہے اس لیے لڑکی شرعاً اس کی مالک ہوتی ہے۔ اوراس میں اپنی مرضی سے تصرّف کرنے کا حق رکھتی ہے۔

اس تمہید کے بعد سوال میں پوچھی گئی جزئیات کا بالترتیب جواب یہ ہے۔

اگر وہ زیور باقاعدہ طور پر لڑکی کو مالک و قابض بنا کر دے دیا گیا تھا۔ تواس زیور کی مالک لڑکی ہے اوروالدین اور خاوند کی رضا مندی کے بغیر استعمال کرنے کاحق رکھتی ہے۔ والدین یا خاوند کیلئے لڑکی کی رضا مندی کے بغیر زیور کو استعمال میں لانا جائز نہیںہے یادر رہے کہ یہ زیور لڑکی کی ملکیت ہے اس لیئے اس کی زکوٰۃ بھی اس پر واجب ہے اور لڑکی اس زیور کواپنے پاس رکھے یا والدین کے گھر میں رکھے اس کو اختیار ہے۔

لما فی ’’بدائع الصنائع‘‘ (۵/ ۳۳۱) ’’ لایجوز التصرف فی ملک الغیر بغیر اذنہ الخ‘‘

وفی ’’ الہندیہ‘‘ (۴/۴۱۸) ’’واما حکم الہبۃ فثبوت الملک للموہوب لہ الخ ‘‘
ماخذ :دار الافتاء جامعہ اشرفیہ لاہور
فتوی نمبر :947