1. دار الافتاء جامعہ اشرفیہ لاہور
  2. کتاب الوقف

بیوی کی مملوکہ زمین پر شوہر کے بنائے ہوئے مکان کو مدرسہ کیلئے وقف کرنا

سوال

شوہر نے بیوی کی اجازت سے اس کی مملوکہ زمین پر مکان بنایا جس میں دونوں قیام پذیر رہے اب بیوی اس مکان کو مدرسہ کیلئے وقف کرنا چاہتی ہے کیا اس کیلئے ایسا کرنا جائز ہے؟

جواب

صورتِ مسؤلہ میں بیوی کی زمین پر شوہر نے جو عمارت بنائی تھی اگر وہ بیوی کو مالک بنانے کی نیت سے بنائی تھی اور پھر اپنی صحت والی زندگی میں بیوی کو یہ عمارت مالک اور قابض بنا کر دے دی تو اس گھر کی بیوی مالک ہے لہذا وہ اس میں ہر جائز تصرف کرنے کا اختیار رکھتی ہے اب اگر بیوی کا یہ گھر اس کے تہائی مال کے اندر اندر ہے تو وہ اس پورے گھر کو وقف کر سکتی ہے اور اگر اس کے علاوہ اور کوئی مال نہیں ہے تو بہتر یہ ہے کہ ایک تہائی مکان کو وقف کرے اور دو تہائی ورثاء کیلئے چھوڑ دے، ہاں اگر ورثاء امیر ہوں اور اس وقف سے خوش ہوں اور اس کی نیت بھی ان کو محروم کرنے کی نہ ہو تو پورا مکان بھی وقف کر سکتی ہے اور اگر شوہر نے وہ عمارت بیوی کو مالک بنا کر نہیں دی، بلکہ اپنے لئے بنائی تھی تو بیوی اس عمارت کی مالک نہیں ہوگی اس صورت میں وہ عمارت شوہر کے ترکہ میں شامل ہو کر قواعدِ شرع کے مطابق اس کے ورثاء میں تقسیم ہوگی لہذا جس قدر عورت کے حصہ میں آئے وہ اسے تفصیل بالا کے مطابق وقف کر سکتی ہے۔

عن مصعب بن سعد عن ابیہ قال عادنی النبی ﷺ فقلت أوصی بمالی کلہ، فقال لا، قلت فالنصف، فقال لا، فقلت ابا لثلث، فقال نعم، والثلث کثیر (الصحیح لمسلم ۲: ۴۰)(عمر دارزوجتہ بمالہ باذنھا فالعمارۃ لھا والنفقۃ دین علیھا)لصحۃ امرھا (ولو) عمر (لنفسہ بلا اذنھا فالعمارۃ لہ) ویکون غاصبا للعرصۃ، فیؤمر بالتفریغ بطلبھا ذٰلک ولھا بلا اذنھا فالعمارۃ لھا وھو متطوع) فی البنائ، فلا رجوع لہ (الدرالمختار ۶:۷۴۷) وکذا فی البحر ص ۸:۴۸۵) فلو وقف جمیع حصتہ من الدار والارض ولم یسم السھام جاز استحسانا (البحر الرائق ۵:۱۸۸)


ماخذ :دار الافتاء جامعہ اشرفیہ لاہور
فتوی نمبر :960


PDF ڈاؤن لوڈ